Wednesday, January 26, 2022  | 22 Jamadilakhir, 1443

کیا ایچ آئی وی میں مبتلا بچوں کوویکسین دینی چاہیے؟

SAMAA | - Posted: Feb 11, 2021 | Last Updated: 12 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 11, 2021 | Last Updated: 12 months ago

فوٹو: سماء ڈیجیٹل

طبی ماہرین نے ایچ آئی وی میں مبتلا بچوں کے دیگر بیماریوں کا علاج روکنے کی تجویز نہیں دی۔

یونیسیف سندھ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ایاز حسین نے کراچی میں ایڈز پر میڈیا رپورٹنگ کے موضوع پر ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بچوں جن کا ایچ آئی وی ٹیسٹ مثبت آیا ہو انہیں متعدی بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین دی جاسکتی ہے۔

ای پی آئی (ایکسپینڈڈ پروگرام آف امیونائزیشن) میں بچوں کو جن بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین دی جاتی ہے ان میں تپ دق، اسہال، ڈائریا، ہیپاٹائٹس بی، خسرہ، میننگیٹس، پرٹیوسس (کھانسی)، نمونیا، پولیو، تشنج اورایکس ڈی آر ٹائیفائڈ شامل ہیں۔

ایچ آئی وی کیلیے کوئی ویکسین کیوں نہیں ہے؟

ڈاکٹر راجوال خان اسٹریٹجک انفارمیشن ایڈوائزر یو این ایڈز کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی ایک حیرت انگیز حد تک پیچیدہ وائرس ہے جو تیزی سے اور اکثر تبدیل ہوتا رہتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال ، ایچ آئی وی کے لئے کوئی ویکسین موجود نہیں ہے لیکن سائنس دان اس پر کام کر رہے ہیں۔ اب تک 40 سے زیادہ ویکسین تیار کی جاچکی ہیں تاہم کوئی بھی کارگر ثابت نہیں ہوئی۔

کیا ایچ آئی وی ایڈز جیسا ہی ہے؟

ہیومن امیونوڈیفینیسی وائرس (ایچ آئی وی) اور ایکوائرڈ امیون ڈیفینسسی سنڈروم (ایڈز) جیسا بلکل نہیں ہے۔

ایچ آئی وی ایک ایسا وائرس ہے جو انفیکشن کا سبب بن سکتا ہے۔ ایڈز متعدد شرائط کا ایک سنڈروم ہے جو ایچ آئی وی انفیکشن کی وجہ سے بھی تیار ہوسکتا ہے۔ ایچ آئی وی انفیکشن قابل علاج ہے لیکن ایڈز کا کوئی علاج نہیں ہے۔

کیا آپ اپنا ایچ آئی وی علاج روک سکتے ہیں؟

ایچ آئی وی کا علاج زندگی کے کسی بھی حصے میں موجود ہے، اس میں اینٹیریٹروائرل دواؤں کا نام لینا شامل ہے جو جسم میں ایچ آئی وی وائرس کا بوجھ کم رکھتی ہے۔ جس سے ایک عام شخص ایک صحتمند زندگی گزار سکتا ہے۔

کیا ایچ آئی وی شخص کو چھونے سے کوئی ایچ آئی وی میں مبتلا ہوسکتا ہے؟

ایچ آئی وی میں مبتلا شخص کو چھونے، ہاتھ ملانے، گلے ملنے یا اس شخص کے ساتھ کھانا کھانے سے بھی آپ کو ایچ آئی وی نہیں لگےگا۔ ایچ آئی وی مچھروں یا کسی دوسرے جانور سے نہیں پھیلتا ہے۔

غیرمحفوظ جنسی عمل، منشیات میں استعمال ہونے والے انجیکشن، طبی انجکشنز اور سرنجوں کا دوبارہ استعمال، خون کی منتقلی، اعضا کی پیوند کاری کے باعث ایچ آئی وی پھیل سکتا ہے جبکہ اسی طرح ایک ماں حمل کے دوران بچے کی پیدائش یا دودھ پلانے کے دوران اپنے بچے میں وائرس پھیلنے کی وجہ بن سکتی ہے۔

اس وقت لاڑکانہ کے ضلع رتوڈیرو میں ایچ آئی وی کی کیا صورتحال ہے؟

لاڑکانہ کے ضلع رتوڈیرو میں ایچ آئی وی کی اسکریننگ اور علاج جاری ہے۔

حالیہ اعدادوشمار کے مطابق 4ہزار 300 افراد کی اسکریننگ کی گئی ہے جن میں سے ایک ہزار 600 کے لگ بھگ افراد میں ایچ آئی وی مثبت پایا گیا ہے۔ ان میں 8 فروری تک ایک ہزار 555 بچے بھی شامل ہیں۔

تمام افراد قائم کردہ اینٹیریٹروائرل تھراپی (اے آر ٹی) سینٹر میں تھراپی کی خدمات حاصل کررہے ہیں، کمیونٹیز کو آگاہی سیشن دیے جارہے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube