Monday, September 27, 2021  | 19 Safar, 1443

اسلام سے دہشت گردی کاتعلق نہیں، دنیاکو سمجھانہیں سکے، وزیراعظم

SAMAA | - Posted: Feb 8, 2021 | Last Updated: 8 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 8, 2021 | Last Updated: 8 months ago

آزادی رائے کے نام پرتکلیف دی جاتی ہے، عمران خان

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مسلم حکمران دنیا کو سمجھا ہی نہیں سکے کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، عالمی جنگ میں جاپانیوں اور سری لنکا میں تامل ٹائیگرز نے خودکش حملے کئے، دنیا کو اپنا مؤقف سمجھانے کیلئے مسلمانوں کو متحد اور منظم ہونا پڑے گا، یہودی منظم ہیں اس لئے مغرب میں ان کیخلاف کوئی بات نہیں کرسکتا۔

وزیراعظم عمران خان نے علماء و مشائخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بننے میں اکثر علماء نے ساتھ دیا، پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا، جس مقصد کیلئے پاکستان بنا ویسا ملک بنانے میں آپ کو اہم کردار ادا کرنا ہے، ہم نے اپنے ملک کو ایسا ملک بنانا تھا جسے دیکھ کر دنیا متاثر ہوتی، ماضی میں عیسائی بھی مسلمانوں کی زندگی اور ثقافت سے متاثر تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں دیگر لوگوں سے زیادہ مغرب کو سمجھتا ہوں، مغرب نے اسلام کو دہشتگردی سے جوڑ دیا ہے، دہشتگردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، مسلمان بھی دہشتگردی کا نشانہ بنے ہیں، آزادی رائے کے نام پر تکلیف دی جاتی ہے، مغرب میں مسلمانوں کو بڑی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، آزادی رائے کے نام پر تکلیف دی جاتی ہے، اسلاموفوبیا کی ہر فورم پر بات کی، مغرب اس چیز کو سمجھ نہیں رہا۔

وزیراعظم نے مسلم ممالک کے رہنماؤں کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے مسلمان ملکوں نے اس پر رد عمل کا اظہار نہیں، مسلم رہنماؤں کو بتانا چاہئے تھا کہ اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں، ہر انسانی معاشرے میں انتہاء پسند، لبرل اور موڈریٹ لوگ ہوتے ہیں، اسلام کا انتہاء پسندی سے کوئی تعلق نہیں، ہم انہیں سمجھا نہیں سکے، مغرب نے خودکش حملے بھی اسلام سے جوڑ دیئے، خودکش حملے سب سے زیادہ سری لنکا کے تاملوں نے کئے، وہ ہندو تھے، انہیں ہندو دہشت گرد نہیں کہا گیا، عالمی جنگ میں جاپانیوں نے امریکی جہازوں پر خودکش حملے کئے، مسلم رہنماؤں نے الزامات کا ٹھیک طرح سے جواب نہیں دیا۔

عمران خان نے کہا کہ مغرب میں لوگوں کو پتہ ہی نہیں کہ ہم اپنے پیارے نبی ﷺ سے کس طرح کی محبت کرتے ہیں، دنیا کو اپنے تعلقات سے متعلق بتانا پڑے گا، دنیا بھر میں یہودی بہت منظم ہیں اس لئے مغرب میں یہودیوں کیخلاف بات نہیں کرسکتے، دنیا کو سمجھاتا رہوں گا کہ جب نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی ہوتی ہے تو اس سے دنیا تقسیم ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میرا ماننا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے اصولوں پر جو بھی چلے گا اللہ اس قوم کو ترقی دے گا، مغرب نے نبی کریم ﷺ کے اصولوں پر عمل کیا ہوا ہے، سب سے پہلے فلاحی ریاست مدینہ میں قائم ہوئی، وہاں قانون کی بالادستی تھی، غریبوں کا خیال رکھنا، یکساں اور تعلیم ہر غریب اور امیر کے بچے دینا، بیروزگار کو وظیفہ دینا، اسپتالوں میں مفت علاج ہوتا ہے، یہ چیزیں آج یورپی ممالک میں ہیں۔

غریبوں اور امیروں کیلئے الگ نظام کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ غریبوں اور امیروں کیلئے الگ قانون ہوگا تو ملک تباہ ہوگا، آج پاکستان میں اربوں روپے لوٹنے والے این آر او مانگتے ہیں، غریب جیل میں پڑے ہیں، یہ ظلم کا نظام ہے، چھوٹے لوگوں کی چوری سے ملک تباہ نہیں ہوتے، ملک کے وزیراعظم، وزیر اور بڑے لوگ چوری کریں تو ملک تباہ ہوتا ہے، غریب ملکوں سے ایک ہزار ارب ڈالر چوری ہوکر امیر ملکوں میں جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قوم میں اچھے برے کی تمیز ختم ہوجائے تو وہ تباہ ہوجاتی ہے، کہتے ہیں اربوں کی چوری کرنیوالے کو تقریر کرنے دی جائے، سپریم کورٹ نے ایک شخص کو مجرم قرار دیا، وہ لندن بھاگ گیا، کسی قوم کا اخلاق ختم ہوجائے تو وہ قوم مرجاتی ہے۔

انکا کہنا تھا کہ مغرب کا دین کے حوالے سے رویہ ہم سے بالکل مختلف ہے، مسلمانوں کو اسلامو فوبیا کی وجہ سے دنیا بھر میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خواتین پر نقاب کی وجہ سے آوازیں کسیں جاتی ہیں، سلمان رشدی ایک فتنہ تھا، مگر اس کا ٹھیک طریقے سے جواب نہیں دیا گیا، تمام مسلم ممالک کے سربراہان کو خود لکھا کہ وہ اسلامو فوبیا پر انٹرنیشنل فورم پر بات کریں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube