کےٹو:محمدعلی سدپارہ اوردیگرکی تلاش، سرچ آپریشن پھرشروع

SAMAA | - Posted: Feb 7, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 7, 2021 | Last Updated: 2 months ago

ہیلی کاپٹر کی 7000 میٹر کی بلند تک پرواز

دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی "کے ٹو" پر لاپتا ہونے والے پاکستانی کوہ پیما علی سدہ پارہ اور ٹیم کے دیگر 2 کوہ پیماؤں کی تلاش کیلئے آج بروز اتوار 7 فروری کو دوبارہ سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔

پاک آرمی ایوی ایشن کے 2 ہیلی کاپٹر آج پھر 7000  سے زیادہ کی بلندی تک کوہ پیماؤں کی تلاش کا عمل شروع کر رہے ہیں۔ علی سدہ پارہ ، جان اسنوری اور ژاں پابلو کا آخری مرتبہ بیس کیمپ سے رابطہ جمعہ کے روز ہوا تھا۔

کے ٹو بیس کیمپ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق محمد علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان اسنوری اور چلی کے ژاں پابلو موہر کے ساتھ آخری رابطہ جب  ہوا تھا تو وہ تینوں 8200 میٹر کی بلندی پر موجود تھے۔

نیپالی کوہ پیما چھینک داوا شرپا کی جانب سے معلومات کے مطابق آرمی ہیلی کاپٹر نے تلاش کے لیے 7000 میٹر بلندی تک پرواز کی اور واپس اسکردو لوٹ گیا۔ پہاڑ اور بیس کیمپ میں صورت حال خراب تر ہو رہی ہے۔ ہمیں مزید آگے بڑھنا چاہتے تھے لیکن موسم اور تیز ہوائیں اس کی اجازت نہیں دے رہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ محمد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ کیمپ ون میں بحفاظت پہنچ گئے ہیں اور جلد ایڈوانس بیس کیمپ تک پہنچ جائیں ہیں اور ان کے لیے بیس کیمپ سے ایڈوانس بیس کیمپ افرادی مدد بھیجی جا رہی ہے۔

کے ٹو بیس کیمپ سے 30 گھنٹوں تک رابطہ نہ ہونے پر تینوں کوہ پیماؤں کی تلاش شروع کی گئی۔ کوہ پیماؤں نے 2 فروری کو بیس کیمپ سے موسم سرما میں کے ٹو سر کرنے کی مہم کا آغاز کیا تھا۔

الپائن کلب کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ ریسکیو آپریشن کے لیے پائلٹ کو ہدایت کی گئی ہے کہ جس حد تک ممکن ہو اونچائی پر پرواز کرے۔ پہاڑ پر درجہ حرارت بہت کم ہے، جب کہ 6500 میٹر کے اوپر کے علاقے میں ہوا کی رفتار 35 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ ہے۔ کلب کے مطابق بیس کیمپ میں آکسیجن بوتلیں، ماسک، ریگولیٹرز اور دوسرا سامان تیار کر کے رکھا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کا کہنا ہے کہ کوہ پیماؤں کی بحفاظت واپسی کیلئے آپریشن جاری ہے۔ قوم اپنے ہیرو کی بحفاظت واپسی کیلئے دعا کرے۔ بیرسٹر خالد خورشید نے یہ بھی کہا ہے کہ علی سدپارہ پر پوری قوم کو فخر ہے، ان جیسے باہمت نوجوان قوم کا سرمایہ ہیں۔ الپائن کی جانب سے عوام سے دعا کی اپیل بھی کی گئی ہے۔

علی سد پارہ کے بیٹے ساجد علی سدپارہ جمعے کی شام کو واپس سی تھری آ گئے تھے کیونکہ ان کا آکسیجن ریگولیٹر کام نہیں کر رہا تھا تاہم دیگر کوہ پیماؤں نے بلندی کی طرف سفر جاری رکھا تھا۔ ان کے بیٹے ساجد سد پارہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ نے اپنی ٹیم کے ہمراہ جمعہ 5 فروری کے روز کے ٹو سر کیا تھا، جس کے بعد انہیں موسمِ سرما میں اس چوٹی کو سر کرنے والے پہلے عالمی کوہ پیما ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہوگیا۔ چوٹی سر کرنے کی خبر ملتے ہی ان کے آبائی علاقے میں جشن منایا گیا۔

کے ٹو کی انتہائی بلند چوٹی سر کرنے کی کامیاب مہم جوئی کے بعد علی سدپارہ اور ان کی ٹیم واپسی میں تاخیر کا شکار ہے۔ علی سدپارہ اور ان کی ٹیم کو جمعہ کی رات 2 بجے تک کیمپ واپس پہنچنا تھا، تاہم ٹیم سے مواصلاتی رابطہ کل سے منقطع ہے۔ ٹیم مقررہ وقت سے کئی گھنٹے گزرنے کے بعد بھی کیمپ تھری واپس نہیں پہنچ سکی جس کی وجہ سے 2 آرمی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز زلفی بخاری نے کہا ہے سرچ اور ریسکیو ٹیمیں علی سد پارہ اور ان کے ساتھی کوہ پیماؤں کو تلاش کر رہے ہیں۔ مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر ان کا لکھنا تھا کہ موسم کی صورت حال سازگار نہیں اس لیے مشن آساں نہیں ہے۔ ہمیں پاکستان آرمی کی مدد حاصل ہے اور کوہ پیماؤں کو بحفاظت واپس لانے کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

اس سے پہلے جنوری میں 10 نیپالی کوہ پیماؤں نے پہلی بار موسمِ سرما میں کے ٹو سر کیا تھا۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کی مہم جوئی کے دوران کیمپ تھری سے واپسی پر رسی ٹوٹنے سے حادثہ بھی پیش آیا تھا، جس میں غیر ملکی کوہ پیما برفانی شگاف میں گر کر لاپتہ ہو گیا تھا۔

جان اسنوری کا تعلق آئس لینڈ سے ہے، جب کہ جے پی موپر کا تعلق چلی سے ہے۔ یہ دونوں کوہ پیما عالمی سطح پر کوہ پیمائی میں اپنی قابلیت کا لوہا منوا چکے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

2 Comments

  1. javedakhter  February 7, 2021 11:54 am/ Reply

    God. Save. Their. Lives

    • Ambreen Sikander  February 7, 2021 12:08 pm/ Reply

      آمین ثما آمین۔ْ دعاؤں میں یاد رکھیں۔ یہ ہمارے ہیرو ہیں۔ شکریہ

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube