Monday, April 12, 2021  | 28 Shaaban, 1442

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ حکومت کیخلاف لانگ مارچ پر متفق

SAMAA | - Posted: Feb 4, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 4, 2021 | Last Updated: 2 months ago

اپوزیشن جماعتیں 26مارچ کو اسلام آباد روانہ ہونگی، فضل الرحمان

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے مارچ کے آخری ہفتے میں حکومت کیخلاف لانگ مارچ کا فیصلہ کرلیا، تمام جماعتیں مشترکہ طور پر سینیٹ انتخابات لڑنے پر متفق ہوگئیں۔ مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ 26 مارچ کو اسلام آباد کی جانب روانہ ہوں گے، ہماری لڑائی غیر جمہوری قوتوں کے ساتھ ہے۔

پی ڈی ایم کا اجلاس مولانا فضل الرحمان کی زیرصدارت اسلام آباد میں ہوا، جس میں مریم نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے شرکت کی۔

اجلاس میں حکومت گرانے کیلئے اسمبلیوں سے استعفوں، لانگ مارچ اور تحریک عدم اعتماد سمیت دیگر پہلوؤں پر غور کیا گیا۔

نمائندہ سماء کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے اجلاس کے شرکاء کو تجاویز دیں کہ لانگ مارچ کے تمام شرکاء 15 مارچ کو اسلام آباد میں اکٹھے ہوں، 15مارچ کو اسلام آباد پہنچ کر لانگ مارچ دھرنے میں تبدیل کردیا جائے، پی ڈی ایم کے دھرنے کو رمضان المبارک سے ایک روز قبل ختم کیا جائے، دھرنے کے اخراجات برداشت کرنے کیلئے چندہ اکٹھا کیا جائے۔

مزید جانیے: پہلے استعفے ہونگے یاتحریک عدم اعتماد، فیصلہ متحدہ اپوزیشن کریگی،مریم

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل 11 اپوزیشن جماعتوں نے مارچ میں حکومت کیخلاف لانگ مارچ کا فیصلہ کرلیا، پی ڈی ایم نے سینیٹ انتخابات مشترکہ طور پر لڑنے پر بھی اتفاق کرلیا۔

پاکستان پیپلزپارٹی اپوزیشن جماعتوں کو حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر قائل کرنے میں ناکام ہوگئی جبکہ استعفوں کا معاملہ بھی سینیٹ الیکشن کے بعد تک مؤخر کردیا گیا۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اجلاس کے بعد مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 26 مارچ کو ملک بھر سے قافلے اسلام آباد کی طرف روانہ ہوں گے، ہماری لڑائی غیر جمہوریت قوتوں کے ساتھ ہے، سینیٹ الیکشن کے بعد استعفوں کے معاملے پر بات ہوگی۔

انہوں نے براڈ شیٹ کی تحقیقات کیلئے بنائے گئے کمیشن کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دوسروں کو کرپٹ کہنے والا خود سب سے بڑا چور ثابت ہوا ہے، موجودہ حکومت رشوت کے طور پر فنڈز تقسیم کررہی ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے مزید کہا کہ حکومتی اراکین بھی اب انہیں ووٹ دینے کیلئے تیار نہیں، اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ کے رویے پر احتجاج جاری رہے گا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سینٹ انتخابات کے بعد تحریک عدم اعتماد کا فیصلہ کریں گے، ہم ناجائز اور نااہل حکومت سے قوم کو نجات دلانا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کل مظفر آباد میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرینگے، کشمیر کو بیچ دیا گیا ہے، کشمیریوں پر مظالم ہورہے ہیں،  ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔

اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمان کا صحافی کے سوال پر کہنا تھا کہ ارکان کو ايوان پر اعتماد نہيں رہا، آئينی ترميم اُس وقت لاتے جب سينيٹ کا چيئرمين بنوا رہے تھے۔

چیئرمین سینیٹ کے انتخابات 3 مارچ 2018ء کو ہوئے تھے، پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان تحریک انصاف نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صادق سنجرانی کی حمایت کی تھی جبکہ مسلم لیگ ن رضا ربانی کو چیئرمین سینیٹ کا امیدوار نامزد کرنا چاہتی تھی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube