Saturday, September 25, 2021  | 17 Safar, 1443

لاہور میں ‘جج پر تشدد’ کی ویڈیو کی حقیقت کیا ہے

SAMAA | - Posted: Feb 4, 2021 | Last Updated: 8 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 4, 2021 | Last Updated: 8 months ago

سماء ڈیجیٹل نے پتہ لگالیا

سوشل میڈیا پر لاہور کی بینکنگ کورٹ کی ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں بظاہر لگتا ہے کہ وکلا ملکر معزز جج پر تشدد کر رہے ہیں۔ اس ویڈیو کے منظر عام پر آںے کے بعد بار اور بنچ ایک بات پھر موضوع بحث بن گئے ہیں۔

سماء ڈیجیٹل نے جب اس ویڈیو کا پس منظر جاننے کی کوشش کی تو انکشاف ہوا کہ یہ آج کل کا نہیں بلکہ دو سال پرانا واقعہ ہے۔ یہ ویڈیو پہلی مرتبہ جنوری 2019 میں سوشل میڈیا پر شیئر ہوئی مگر بڑے پیمانے پر سوشل میڈیا صارفین کی توجہ نہ کھینچ سکی۔

فیس بک پر پارس لغاری نامی صارف نے 27 جنوری 2019 کو یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اس کے ساتھ لکھا ہے کہ بینکنگ کورٹ لاہور میں وکلا نے جج کے کپڑے اتارنے کی کوشش کی ہے۔ یہ ویڈیو چیف جسٹس تک پہنچنی چاہیے تاکہ وکیلوں کی ’بدمعاشی‘ بند ہوجائے۔

دو سال سے اوپر عرصہ گزر جانے کے بعد 4 فروری 2021 کو یہ ویڈیو ایک بار پھر سوشل میڈیا پر وائرل ہے اور لوگ ویڈیو دیکھ کر وکلا کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

یہ واقعہ اس وقت میڈیا میں رپورٹ نہیں ہوا اور نہ ہی بینکنگ کورٹ سے اس کے بارے میں کوئی وضاحت جاری ہوئی مگر ایک صحافی نے ذالقرنین بخاری نے جنوری 2019 میں یہ ویڈیو اپنے فیس بک اکاؤنٹ سے شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’اس ویڈیو کو غلط رنگ دیا جارہا ہے۔‘

ذالقرنین بخاری لکھا کہ ’اصل کہانی یہ ہے کہ جج بینکنگ کورٹ لاہور چوہدری محمد ارشد کی عدالت میں ملزم معزز جج کے قدموں میں گِر کر اس جھگڑے سے اپنی جان بخشی کے لئے استدعا کر رہا ہے کہ وکلا اور فریقِ دوئم سے اس کی جان چھڑائی جائے جس پر واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ جج صاحب اسے چھڑانے کی کوشش کررہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ ’اسی اثنا میں مخالف فریق وکلا سمیت اسے مارنے کے لئے کود پڑے اور عزت ماب جج صاحب کے سامنے کورٹ کے ڈیکیورم کو خراب کیا۔ مگر جج صاحب نے کمال جرات کا مظاہرہ کیا اور کورٹ کو نہ چھوڑا۔‘

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube