Tuesday, June 22, 2021  | 11 ZUL-QAADAH, 1442

لگتاہے18ویں ترمیم میں اوپن بیلٹ جان کرشامل نہیں کیا،عدالت

SAMAA | - Posted: Feb 4, 2021 | Last Updated: 5 months ago
Posted: Feb 4, 2021 | Last Updated: 5 months ago

اوپن بیلٹ سے متعلق صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ ممکن ہے اوپن بیلٹ 18 ہویں ترمیم کرنے والوں میں سیاسی منشاء ہی نہ ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے اٹھارہویں ترمیم کرنے والے اپنا وعدہ ہی پورا کرنا چاہتے ہیں۔

سپریم کورٹ میں 4 فروری بروز جمعرات سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کیا۔جس پرجسٹس اعجاز نےحضرت علی کا قول پڑھتےہوئےکہا کہ حضرت علی نے فرمایا تھا یہ نہ دیکھو کون کہ رہا ہے، یہ دیکھو کیا کہ رہا ہے۔ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہو سکتا ہے اوپن بیلٹ پر پارٹی کسی رکن کو ووٹ نہ دینے پر نکالے اور وہ عدالت آ جائے۔ اگر کسی کو پارٹی سے نکالا گیا وہ عدالت سے کہے گا مجھے کیوں سزا دی گئی۔ اوپن بیلٹ پہلا مرحلہ ہے، دوسرے مرحلے میں پارٹی سربراہان کو جوابدہ ہونا ہوگا۔ آئین تخلیق کرنے والوں نے ووٹ فروخت ہونے کا سوچا بھی نہیں ہوگا۔ آئین کے مطابق انتخابی عمل کو شفاف ہونا چاہیے۔ آرٹیکل 226 کا اطلاق صرف آئین کے تحت ہونے والے انتخابات پر ہوتا ہے۔

اس موقع پرجسٹس عمر عطا نے ریمارکس دیئے کہ لگتا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم میں اوپن بیلٹ جان بوجھ کر شامل نہیں کیا گیا۔ جسٹس عطا کے ریمارکس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ممکن ہے اوپن بیلٹ اٹھارہویں ترمیم کرنے والوں میں سیاسی منشاء ہی نہ ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے اٹھارہویں ترمیم کرنے والے اپنا وعدہ ہی پورا کرنا چاہتے ہیں۔

جسٹس عطا نےاٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ پارلیمانی نظام میں استحکام لاتا ہے۔ قومی اسمبلی میں سیاسی طوفان رہتا ہے لیکن سینیٹ میں نہیں۔

عدالت عظمیٰ کے سامنے اٹارنی جنرل نے اپنے مؤقف میں کہا کہ جس میں ضمیر کے مطابق کھڑا ہونے کا حوصلہ ہے وہ سامنے بھی آئے۔ پارٹی کیخلاف ووٹ دینے پر نااہلی نہیں ہونی چاہیے۔ جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایوان بالا کا ہونا کیوں ضروری ہے اس پر دلائل دیں۔ جسٹس اعجاز نے ریمارکس دیئے کہ سینیٹ وفاق کی علامت ہے جہاں تمام صوبوں کی یکساں نمائندگی ہوتی۔

معززعدالت کو مخاطب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ اسمبلی عوام اور سینیٹ وفاق کا ایوان ہوتا ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا پوچھا کہ ایوان بالا کے لوگ کرپٹ نظام کے تحت آئیں گے تو کیا بچے گا؟۔ کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube