Thursday, September 23, 2021  | 15 Safar, 1443

ڈینیئل پرل کیس: احمدعمرسعیدشیخ ڈیتھ سیل سے بیرک میں منتقل

SAMAA | - Posted: Feb 3, 2021 | Last Updated: 8 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 3, 2021 | Last Updated: 8 months ago

سپریم کورٹ کے حکم کے تحت احمد عمر شیخ کو کراچی سینٹرل جیل میں ڈیٹھ سیل سے عام بیرک میں منتقل کردیا گیا۔ جیل سپرنٹنڈنٹ حسن سہتو نے تصدیق کردی۔

کراچی سینٹرل جیل کے سپرنٹنڈںٹ حسن سہتو نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ امریکی صحافی ڈینیئل پرل قتل کیس میں گرفتار احمد عمر سعید شیخ کو ڈیٹھ سیل سے عام بیرک میں منتقل کردیا گیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈینیئل پرل قتل کیس میں گرفتار احمد عمر سعید شیخ کو ایک سے 2 روز میں کراچی میں ریسٹ ہاؤس منتقل کردیا جائے گا۔

دوسری جانب رابطہ کرنے پر احمد عمر سعید شیخ کے وکیل محمود اے شیخ نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ تاحال ان کے پاس ان کے مؤکل کو کسی ریسٹ ہاؤس میں منتقل کئے جانے کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ احمد عمر سعید شیخ کے اہلخانہ ان سے ملاقات کرنے اب تک لاہور سے کراچی نہیں گئے ہیں لیکن ایک بار ان کے مؤکل کو ریسٹ ہاؤس منتقل کردیا جائے اور کوئی موزوں جگہ تلاش کرلی جائے تو شاید ان کے اہلخانہ ان سے ملاقات کرنے کراچی پہنچیں۔

 مزید جانیے: ڈینیئل پرل کیس، سپریم کورٹ نےاحمدعمر شیخ کورہاکرنیکا حکم دیدیا

سپریم کورٹ نے 28 جنوری 2021ء کو سندھ ہائیکورٹ کے حکم کیخلاف سندھ حکومت اور مقتول صحافی ڈینیئل پرل کے والدین کی اپیلیں خارج کرتے ہوئے احمد عمر سعید شیخ سمیت دیگر ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

سندھ حکومت نے ڈینیئل پرل قتل کیس میں گرفتاری احمد عمر سعید شیخ سمیت دیگر ملزمان کی رہائی کا فیصلہ معطل کرنے کی درخواست کی تھی۔

سپریم کورٹ نے 2 فروری 2020ء کو سندھ حکومت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے احمد عمر سعید شیخ کو ڈیتھ سیل سے ریسٹ ہاؤس منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

کیس کا پس منظر کیا ہے؟

امریکا کے اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے صحافی ڈینیئل پرل کو کراچی میں جنوری سال 2002 میں اغوا کیا گیا تھا جس کے بعد ان کی لاش اسی سال 2002 میں مئی میں برآمد کی گئی تھی۔

اس کیس میں پولیس نے 4 ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ان میں سے 3 ملزمان فہد نسیم، شیخ عادل اور سلمان ثاقب کو عمر قید کی سزا سنائی تھی جب کہ مرکزی ملزم احمد عمر سعید شیخ کو قتل اور اغوا کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

چاروں ملزمان نے سندھ ہائی کورٹ میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔ جب کہ استغاثہ کی جانب سے مجرموں کی سزاؤں میں اضافے کی درخواست دائر کی گئی تھی۔

تاہم اس کیس میں اپیل پر فیصلہ آنے میں 18 برس کا عرصہ لگ گیا کیوں کہ ملزمان کے وکلا نہ ہونے کی وجہ سے اپیلوں کی سماعت تقریباً 10 برس تک بغیر کارروائی کے ملتوی ہوتی رہی۔

سندھ ہائی کورٹ نے 4 فروری 2020 کو 18 سال بعد اپیل پر فیصلہ سنایا تھا جس میں عدالت نے مقدمے میں گرفتار تین ملزمان کو بری جب کہ مرکزی ملزم کی سزائے موت کو سات سال قید میں تبدیل کرنے کا حکم دیا تھا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube