Tuesday, September 28, 2021  | 20 Safar, 1443

کروناوائرس: نجی کمپنی کو روسی ویکسین درآمد کرنے کی اجازت

SAMAA | - Posted: Feb 3, 2021 | Last Updated: 8 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 3, 2021 | Last Updated: 8 months ago
Coronavirus

آرٹ ورک: ٹرینیٹ لوکاس/ سماء ڈیجیٹل

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے دوا ساز کمپنی اے جی پی کو پاکستان میں روسی اسپاٹونک وی ویکسین کو درآمد اور متعارف کرانے کی اجازت دے دی۔

منگل 2 فروری کو اے جی پی نے جب اسٹاک مارکیٹ کو اس خبر سے مطلع کیا تو ویکسین کی قیمت 132 روپے سے بڑھ کر 134.62 روپے ہوگئی۔ 20 جنوری سے ویکسین کی قیمت میں اضافہ دیکھا گیا اور تب اس کی قیمت 114 روپے تھی۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر موجود اے جی پی کے نوٹیفیکیشن کے مطابق ’’ڈریپ نے یکم فروری کو کمپنی اسپاٹونک وی ویکسین کے لیے ہنگامی استعمال کی اجازت دے دی ہے تاکہ اسپاٹونک وی ویکسین کی وجہ سے کرونا وائرس کے انفیکشن سے بچا جا سکے۔

نوٹیفیکیشن میں مزید لکھا ہے کہ کمپنی کو پاکستان میں ویکسین درآمد کرنے اور متعارف کروانے کا بھی اختیار دیا گیا ہے اور اب وہ ہنگامی بنیادوں پر مناسب فراہمی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔

مذکورہ ویکسین گمالیا نیشنل سینٹر اینڈ مائیکروبیالوجی روس نے تیار کی ہے۔

اے جی پی کے مطابق ویکسین روس، ہنگری، ارجنٹینا اور متحدہ عرب امارات سمیت 15 ممالک میں منظور کر لی گئی ہے جبکہ بعض دیگر ممالک میں رجسٹریشن جاری ہے۔

کلینیکل اسٹڈی جو 21ہزار 862  رضاکاروں کے فیز تھری ٹرائلز پر مبنی ہے کہ رپورٹ کے مطابق اسپاٹونک وی ویکسین کی افادیت کا تعین 91.6 فیصد کیا گیا ہے جبکہ کرونا وائرس کے مریضوں کے لیے 100 فیصد افادیت ہے۔

نوٹیفیکیشن کے مطابق ویکسین کا حفاظتی انتظام اچھا ہے اور خاص طور پر ویکسین سے کوئی الرجی ہونے کا امکان نہیں ہے۔ یہ کرونا کی اب تک کی سب سے موثر ویکسین ہے جو پاکستان میں ای یو اے نے حاصل کی ہے جبکہ یہ یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کو بھی دی جاسکتی ہے، جس میں 60 سال سے زائد عمر کے افراد بھی شامل ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube