Tuesday, January 25, 2022  | 21 Jamadilakhir, 1443

چترال: روسی شہری کا مارخور کا شکار

SAMAA | - Posted: Jan 31, 2021 | Last Updated: 12 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 31, 2021 | Last Updated: 12 months ago

مارخور کا شکار کرنے والے روسی شکاری

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں روس سے تعلق رکھنے والے شکاری نے 38 انچ سائز کے 8 سالہ کشمیر مارخور کا شکار کیا۔

روس سے تعلق رکھنے والے شکاری اہوجینی سخاروف نے 38 انچ سائز کے 8 سالہ کشمیر مارخور کا شکار کیا۔ محکمہ وائلڈ لائف خیبر پختونخوا کو روسی شکاری کی جانب سے اس ٹرافی شکار کیلئے 64 ہزار امریکی ڈالر ادا کیے گئے تھے۔

یہ اس سیزن کا تیسرا اور آخری ٹرافی شکار ہے، جب کہ گزشتہ ماہ 2 امریکیوں نے توشی شاشا میں شکار کیا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی شہری ایڈور جوزیف نے چترال میں بڑے سینگوں والے مارخور کا شکار کیا تھا۔ اس ٹرافی ہنٹنگ کیلئے انہوں نے 88 ہزار ڈالر ادا کیے تھے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں مارخور کا شکار کرنے کیلئے مختلف ممالک کے شکاری بڈنگ میں حصہ لیتے ہیں، جو شکاری زیادہ پیسے دیتے ہیں، ان کو شکار کی اجازت مل جاتی ہے۔

مارخور کے شکار سے حاصل ہونے والے پیسوں سے چترال میں عوام کی فلاح و بہبود اور مارخور کی سیکیورٹی پر خرچ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ تمام عمل محکمہ وائلڈ لائف کی زیر نگرانی کیا جاتا ہے۔ اس شکار کو ٹرافی کا نام دیا جاتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ہر سال محکمہ وائلڈ صوبائی حکومت کی ہدایت پر ایک شکاری کو بار شکار کرنے کی اجازت دیتی ہے، جس کیلئے ایک کروڑ سے زائد پیسے دیئے جاتے ہیں۔ شکاری کو صرف ایک مارخور کے شکار کی اجازت ہوتی ہے۔

قبل ازیں گزشتہ سال 2020 میں چترال میں محکمہ وائلڈ لائف کی جانب سے کامیاب ٹرافی ہنٹنگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں امریکی شہری نے مہنگے ترین جانور کا شکار کیا۔ اس کیلئے 1 کروڑ 30 لاکھ روپے میں مارخور کے شکار کا پرمٹ حاصل کیا گیا۔

امریکی شہری نے چترال کے علاقہ توشی شاشہ میں مارخور کا شکار کیا۔ جوزف کے مطابق قیمتی جانور مارخور کے شکار کا خواب بچپن سے تھا جو اب پورا ہوا۔ ہر سال وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ لاکھوں روپے میں ٹرافی ہنٹنگ کا پرمٹ جاری کرتا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube