گجر نالے کے اطراف آپریشن میں 4ہزار مکانات مسمار ہونگے

SAMAA | - Posted: Jan 29, 2021 | Last Updated: 5 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 29, 2021 | Last Updated: 5 months ago

فوٹو : آن لائن

کراچی میونسپل کارپوریشن نے این ای ڈی یونیورسٹی کی ٹیکنکل رپورٹ کی روشنی میں کراچی کے گجر نالے کو چوڑا کرنے کیلئے کام کا آغاز کردیا۔ گجر نالہ کراچی کے ان تین نالوں میں سے ایک ہے جنہیں برساتی پانی کے بہاؤ کو بہتر بنانے کیلئے چوڑا کیا جارہا ہے۔

سندھ حکومت نے گزشتہ سال اگست میں شدید بارشوں کے بعد شہر کے نالوں پر قائم تجاوزات کو ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا۔

پہلے مرحلے میں سندھ حکومت نے این ای ڈی انفرااسٹرکچر انجینئرنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کو شہر میں برساتی پانی کے نالوں کا مستقل بنیادوں پر حل نکالنے کا ٹاسک دیا تھا۔ انہوں نے پہلے تکنیکی حل کیلئے محمود آباد نالہ، گجر نالہ اور اورنگی نالے کا انتخاب کیا تھا۔

این ای ڈی کی ٹیم نے گجر نالے سے متعلق اپنی تجاویز اور تکنیکی رپورٹ 31 دسمبر 2020ء کو سندھ حکومت کے پاس جمع کرائی تھی۔ رپورٹ کے مطابق گجر نالے کی لمبائی 12.58 کلو میٹر ہے، جو نیو کراچی کے نورانی محلہ سے شروع ہوتا ہے، جسے زیرو پوائنٹ کہا جاتا ہے جبکہ اس کا اختتام لیاقت آباد کے قریب حاجی مرید گوٹھ پر ہوتا ہے۔

این ای ڈی انفرااسٹرکچر اینڈ اربن ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر عدنان قادر نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو میں بتایا کہ پہلے انہوں نے گجر نالے کو 1912ء کے حقیقی پلان کے مطابق 210 فٹ تک چوڑا کرنے کی تجویز دی تھی، جس کے مطابق برساتی نالے کو دونوں اطراف سے 105 فٹ تک چوڑا کیا جانا تھا، اس منصوبے کے مطابق گجر نالے پر 6985 مکانات متاثر ہوسکتے تھے تاہم منصوبے میں تبدیلی کرتے ہوئے اسے حتمی شکل دی گئی ہے۔

انہوں نے تصدیق کہ کہ حتمی پلان کے مطابق اب گجر نالے کے دونوں اطراف مجموعی طور پر 4 ہزار مکانات جزوی و مکمل مسمار ہوں گے۔

این ای ڈی نے ہائیڈرولوجیکل اور ہائیڈرولک تجزیے کے ساتھ گجر نالے پر اپنی حتمی سروے رپورٹ مکمل کی ہے، جو حکومت کو پیش کی جاچکی ہے۔

ہائیڈرولوجیکل تجزیہ: یہ بارش کی مقدار کو بہاؤ کے مطابق تبدیل کرنے کا علم ہے۔

ہائیڈرولک تجزیہ: اس میں مائع کی نظم کے ساتھ حرکت جیسا کہ فلائیڈ میکینکس اور فلائیڈ ڈائنامکس کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر قادر نے مزید بتایا کہ حتمی منصوبے میں گجر نالے کی چوڑا 35 فٹ سے 120 فٹ تک چوڑا کیا جانا ہے۔ نالے کی چوڑائی مختلف مقامات پر الگ الگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے زیرو پوائنٹ جہاں سے نالے کا آغاز ہوتا ہے پر چوڑائی 35 فٹ جبکہ اس کے اختتامی پوائنٹ پر 120 فٹ تجویز کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گجر نالے کی چوڑائی مختلف مقامات پر 15 فٹ سے 87 فٹ تک ہے جبکہ اس کی اوسط چوڑائی 33 فٹ بنتی ہے۔ این ای ڈی کے پروفیسر کا مزید کہنا ہے کہ نالے کی گہرائی کوئی مسئلہ نہیں، ہم نالے میں سے موٹا کچرا نکال کر اسے 3 سے 4 فٹ تک مزید گہرا کرسکتے ہیں۔

ڈاکٹر قادر نے یہ بھی کہا کہ این ای ڈی انفرااسٹرکچر انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ گجر نالے کے تکنیکی مطالعے کے دوران دو مختلف ڈیزائنز (لبرل اور کنزرویٹو ماڈلز) پر کام کررہا تھا، لبرل ماڈل ایک ایسا ماڈل تھا جس میں برساتی نالہ 12 گھنٹے کے دوران 270 ملی میٹر بارش کے پانی کا بوجھ برداشت کرسکتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ شہر 12 گھنٹے تک 270 ملی میٹر بارش سے متاثر نہیں ہوگا۔

کنزرویٹو ماڈل میں وقت کا دورانیہ 3 گھنٹے تک رہ جاتا ہے۔ جس کا مطلب کہ اگر کراچی میں 270 ملی میٹر بارش ہو تو تین گھنٹے بعد برساتی نالے ابل پڑیں گے۔

این ای ڈی کے پروفیسر ڈاکٹر قادر نے بتایا کہ سندھ حکومت گجر نالے کیلئے لبرل ماڈل استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ این ای ڈی نے نالے کے دونوں اطراف 30 فٹ کا روڈ بنانے کا فیصلہ کیا جو شہریوں کو لیاری ایکسپریس وے سے جوڑے گا۔

کے ایم سی کے محکمہ کچی آبادی کے سینئر ڈائریکٹر مظہر خان کا کہنا ہے کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن نے 26 جنوری کو گجر نالے کے اطراف قائم گھروں پر نشانات لگانے شروع کردیئے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے زیرو پوائنٹ سے نشانات لگانے شروع کئے اور اب لنڈی کوتل تک پہنچ چکے ہیں، اس بیچ 1500 مکانات کو مسمار کرنے کیلئے نشانات لگائے گئے ہیں۔

کے ایم سی کے سینئر ڈائریکٹر کا مزید کہنا ہے کہ نشانات لگانے کا کام 31 جنوری (اتوار) تک مکمل کرلیا جائے گا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ کے ایم سی کی ٹیم این ای ڈی کے ٹیکنیکل سروے کے مطابق درست پیمائش کے بعد گھروں پر نشانات لگارہی ہے۔

مظہر خان نے کہا کہ گجر نالے پر غیر قانونی گھروں کو گرانے کی کارروائی کا آغاز 3 فروری سے محمود آباد نالے پر آپریشن کی طرز پر شروع ہوگا، پہلے محلے میں غیر پختہ تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے گا۔

کے ایم سی اینٹی انکروچمنٹ ڈپارٹمنٹ کے سینئر ڈائریکٹر بشیر صدیقی نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو میں تصدیق کی کہ محمود آباد پر تجاوزات کے خاتمے کا آپریشن پیر (آئندہ ہفتے) تک مکمل ہوجائے گا، جس کے بعد گجر نالے پر کارروائی کا آغاز ہوگا۔

کراچی شہر میں مجموعی طور پر 41 برساتی نالے موجود ہیں، جن میں سے فی الحال تکنیکی حل کیلئے 3 کا انتخاب کیا گیا ہے، ان میں سے ایک محمود آباد نالہ ہے جس پر کے ایم سی نے این ای ڈی کی ٹیکنیکل رپورٹ کے بعد نالے کے ساتھ غیرقانونی تعمیرات کے انہدام کے کام کا آغاز 4 جنوری 2021ء سے کیا تھا، محمود آباد نالے کے اطراف آپریشن کے دوران 200 گھروں کو مسمار کیا گیا۔

اورنگی ٹاؤن نالہ ایسا تیسرا مقام ہوگا جہاں سے برساتی پانے کے نالے اطراف قائم تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے گا، وہاں تقریباً 2 ہزار مکانات متاثر ہوں گے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube