Sunday, September 26, 2021  | 18 Safar, 1443

کرپشن پرسیپشن انڈیکس 2020: پاکستان کی 4 درجہ تنزلی

SAMAA | - Posted: Jan 28, 2021 | Last Updated: 8 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 28, 2021 | Last Updated: 8 months ago

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان میں کرپشن بڑھ گئی

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا کرپشن پرسيپشن (تاثر) انڈيکس 2020ء جاری کردیا گیا، شفافیت کے لحاظ سے پاکستان 4 پوائنٹس کی تنزلی سے 124ویں نمبر پر پہنچ گيا۔ رپورٹ بنانے کیلئے دنيا کے 13 اداروں سے ڈيٹا اکٹھا کيا گیا ليکن 4 بڑے اداروں ورلڈ بينک، ورلڈ اکنامک آرگنائزيشن، گلوبل انسائٹ اور اے ڈی بی کے اعداد و شمار 2018ء اور 2019ء کے استعمال کئے گئے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن پرسيپشن (تاثر) انڈيکس 2020ء کی رپورٹ میں پرانے اعداد و شمار استعمال کردیئے۔ تفصيلات کے مطابق رپورٹ کیلئے دنيا کے 13 بڑے اداروں سے ڈيٹا اکھٹا کيا گيا، تاہم اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 4 بڑے اداروں ورلڈ بينک، ورلڈ اکنامک آرگنائزيشن، گلوبل انسائٹ اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک کا 19-2018ء کا ڈیٹا استعمال کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق سروے میں ورلڈ بينک، ورلڈ اکنامک آرگنائزيشن اور گلوبل انسائٹ کے اعداد و شمار 2019ء جبکہ ایشین ڈیولپمنٹ بینک کا ڈيٹا 2018ء کا نکلا۔

رپورٹ  کے مطابق شفافیت کے لحاظ سے پاکستان 4 پوائنٹس کی تنزلی کے ساتھ 1024ویں نمبر پر پہنچ چکا ہے، گزشتہ برس بھی پاکستان کی پوزیشن میں 3 درجے تنزلی ہوئی تھی۔

عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق کرپشن پرسیپشن انڈیکس 2020ء میں نیوزی لینڈ اور ڈنمارک 88 پوائنٹس کے ساتھ کرپشن سے پاک ممالک ہیں جبکہ صومالیہ اور جنوبی سوڈان کرپٹ ترين ممالک قرار پائے ہیں، بھارت 40 پوائنٹس حاصل کرکے 86ویں نمبر پر رہا جبکہ امریکا 67 پوائنٹس کے ساتھ 25 ویں نمبر پر ہے۔

کرپشن انڈیکس 180 ملکوں کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، کرپشن پرسیپشن انڈیکس 180 ممالک میں پبلک سیکٹر میٕں کرپشن کی صورتحال کا جائزہ لےکرترتیب دیا گیا ہے۔

چیئرمین ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق کرپشن قومی احتساب بیورو (نیب) کے ان دعوؤں کے باوجود بڑھی کہ دو برسوں میں نیب نے کرپشن کے 365 ارب روپے برآمد کیے، پاکستان کا اسکور 31 رہا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube