علاج سے قبل پیسوں کا مطالبہ، لڑکی چل بسی

SAMAA | - Posted: Jan 26, 2021 | Last Updated: 5 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 26, 2021 | Last Updated: 5 months ago

بھائی سماء ٹی وی پر رو پڑا

کراچی کے سچل گوٹھ میں واقع میمن اسپتال میں ڈاکٹروں نے 5 لاکھ روپے ایڈوانس کے بغیر حادثے میں زخمی ہونے والی لڑکی کا علاج کرنے سے انکار کردیا جس کے باعث وہ جاں بحق ہوگئی۔

سندھ حکومت نے گزشتہ برس ’امل عمر بل‘ کے نام سے قانون بناکر اسپتالوں کو پابند کیا تھا کہ ایمرجنسی میں آنے والے زخمیوں اور مریضوں سے ایڈوانس رقم کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔ زخمی کا فوری علاج کیا جائے اور اس پر آنے والے اخراجات سندھ حکومت ادا کرے گی۔

قانون بننے کے باوجود کراچی کے پرائیویٹ اسپتالوں کی روش نہیں بدلی۔ گزشتہ روز جاں بحق ہونے والی لڑکی نازیہ کے بھائی نے سماء ٹی وی کے اینکر علی حیدر کو بتایا کہ نازیہ موٹر سائیکل میں دوپٹہ آنے کی وجہ سے زخمی ہوگئی تھی جس پر انہیں قریب ہی میمن اسپتال منتقل کیا گیا جہاں عملے نے ہاتھ لگانے سے بھی انکار کردیا اور کہا کہ پہلے 5 لاکھ روپے جمع کروائیں۔

نازیہ کے بھائی کے مطابق ’میں نے اسپتال انتظامیہ سے کہا کہ میں ایمرجنسی میں آیا ہوں اور اس وقت میرے پاس پیسے نہیں ہیں لیکن اسپتال انتظامیہ نے 5 لاکھ سے کم کرکے کہا کہ آپ 3 لاکھ روپے جمع کرائیں۔

انہوں نے کہا کہ جب میں اپنی زخمی بہن کو ایک گھنٹے تک امداد نہ ملنے پر وہاں سے لے جانے لگا تو اسپتال انتظامیہ نے 15 ہزار کا بل ہاتھ میں تھمادیا اور کہا کہ پہلے یہ بل ادا کریں اس کے بعد ہی یہاں سے جاسکیں گے۔

اس کے بعد نازیہ کو سول اسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا مگر وہ علاج ملنے سے پہلے دم توڑ چکی تھی۔ سول اسپتال کے ڈاکٹرز نے کہا کہ اگر وقت پر طبی امداد مل جاتی تو نازیہ کی جان بچ سکتی تھی۔

WhatsApp FaceBook

One Comment

  1. Murtaza  January 27, 2021 9:23 pm/ Reply

    This hospital must be siezed to exist

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube