ملک بھرمیں 9 تا 12ویں کلاسز کا آغاز ہوگیا

SAMAA | , , and - Posted: Jan 18, 2021 | Last Updated: 5 months ago
Posted: Jan 18, 2021 | Last Updated: 5 months ago

او لیولز،اے لیولز اور کالجز میں بھی تدریسی عمل کا آغاز

ملک بھر میں مرحلہ وار تعلیمی اداروں کو کھولنے کا سلسلہ آج 18 جنوری سے شروع ہوگیا ہے۔ پہلے مرحلے میں 9 ویں سے 12 ویں، اے لیولز، او لیولز اور کالجز میں تدریسی عمل کا آغاز ہوگیا ہے۔

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ تعلیمی ادارے کھلنے پر بچوں کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔ بچوں کا مستقبل ہماری پہلی ترجیح ہے۔

واضح رہے کہ تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل کا آغاز 53 دنوں بعد ہوا ہے۔ پہلی سے آٹھویں جماعت تک تعلیم کا سلسلہ یکم فروری سے شروع ہوگا۔ ہائير ايجوکيشن کے انسٹی ٹيوٹس اور جامعات میں بھی يکم فروری سے تعلیمی سرگرمیاں شروع ہوجائیں گی۔

[caption id="attachment_2161439" align="alignright" width="999"] فائل فوٹو[/caption]

ٹھنڈ کے باوجود بڑی تعداد میں بچوں نے تعلیمی اداروں کا رخ کیا۔ اس موقع پر درس گاہوں کے مین گیٹ پر بچوں کا درجہ حرارت چیک کیا، جب کہ ان کے ہاتھوں کو بھی سینیٹائز کیا گیا۔ اسکول آنے والے اسٹاف ممبران اور اساتذہ کے بھی درجہ حرارت چیک کیے گئے۔

تعلیمی اداروں کی جانب سے بچوں کو فیس ماسک کے استعمال اور سماجی رابطے پر بھی زور دیا گیا۔ کلاسز میں تدریسی عمل کے آگاز سے قبل جماعتوں اور اسکول کو مکمل طور پر سینیٹائز بھی کیا گیا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ملک بھر میں کرونا وائرس کے بڑھتے کیسز اور کرونا کی دوسری لہر میں تیزی کے بعد ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں تدریس کا عمل گزشتہ سال 26 نومبر سے ورک دیا گیا تھا، جس کے بعد تعلیمی اداروں کی جانب سے آئن لائن کلاسز کا سلسلہ جاری تھا۔

قبل ازیں کرونا ایڈوائزری گروپ پنجاب کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمود شوکت کے مطابق اسکول کھولنے کے معاملے پر این سی او سی کے اجلاسوں میں خاصی تفصیل سے بات چیت ہوئی جس میں این سی او سی نے رائے مانگی تھی۔ ماہرین نے کہا ہے کہ وہ اِس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ تعلیمی اداروں کو مستقل بند نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن صورتِ حال دیکھ کر تعلیمی اداروں کو کھولا جائے گا۔

'کسی بچے کو امتحان کے بغیر پاس نہیں کیا جائے گا'

این سی او سی کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود نے کہا تھا کہ اس سال کسی بچے کو امتحان کے بغیر پاس نہیں کیا جائے گا۔ گزشتہ آٹھ 8 ماہ کے دوران تعلیم کا بہت نقصان ہوا ہے۔ پاکستان میں ابھی بھی کرونا کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین نے این سی او سی کے اجلاس میں بتایا تھا کہ تعلیمی ادارے بند کرنے سے مثبت شرح کم ہو گی۔ شفقت محمود نے کہا کہ پہلی جماعت سے جماعت ہشتم تک جماعتیں کھولنے کا شیڈول تبدیل کر دیا گیا۔ فیصلے کے وقت کرونا کیسز میں اضافے کی شرح ایک اعشاریہ 9 فی صد تھی۔ تعلیمی اداروں کی بندش سے انفیکشن کی شرح پر واضح اثر پڑتا ہے۔ اس وقت بھی کیسز میں اضافے کی شرح زیادہ ہے اور کیسز روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہے ہیں۔

وفاقی وزیر تعلیم کا مزید کہنا تھا کہ تمام اسکول، کالج یا نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں کی کلاسز ہوتی ہیں، وہ کھل جائیں گے۔ اُس کے بعد پرائمری اسکول 25 جنوری کو کھلنے تھے وہ نہیں کھلیں گے۔ انہیں اب یکم فروری کو کھولا جائے گا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube