سیاسی انتقام کا حصہ بننے سے انکار کیا تھا، موسوی

SAMAA | - Posted: Jan 16, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 16, 2021 | Last Updated: 4 months ago

مشہور زمانہ براڈ شیٹ کے عہدیدار کاوے موسوی نے سماء ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے وقت بھی پرویز مشرف کو بتا دیا تھا کہ ہ صرف نواز شریف کے پیچھے نہیں جائیں گے اور ہم کسی پالیٹیکل ’وچ ہنٹ‘ کا حصہ نہیں بنیں گے۔

سماء ٹی وی کے پروگرام ایجنڈا 360 میں میزبانوں نے کاوے موسوی سے پوچھا کہ کیا واقعی نیب آپ کے ذریعے احتساب کروانا چاہتی تھی یا صرف مخالفین کو نشانہ بنانے کا منصوبہ تھا۔

کاوے موسوی نے جواب دیا کہ جب نیب کے ساتھ معاہدہ ہوا تو جنرل امجد سربراہ تھے اور وہ نیک نیتی کے ساتھ کام کر رہے تھے مگر پھر مشرف نے ان کو ہٹاکر کسی اور کو تعینات کردیا براڈشیٹ کو دی گئی فہرست سے آفتاب شیرپاؤ سمیت مختلف نام نکلنے کی فرمائشیں آنے لگی تو میں سجھ گیا کہ حکومت احتساب میں سنجیدہ نہیں ہے۔

کاوے موسوی نے یاد دلایا کہ جب نیب اور براڈ شیٹ کا معاہدہ ہورہا تھا تو پرویز مشرف کو واضح الفاظ میں بتادیا تھا کہ ہم صرف نواز شریف کے خلاف تحقیقات نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی سیاسی انتقامی کارروائی کا حصہ بنیں گے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ انہوں نے معاہدہ ختم ہونے تک کتنی رقم کا سراغ لگایا تھا۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’اربوں ڈالرز‘ کا پتہ چل گیا تھا مگر نیب نے ہماری تحقیقات کو ثبوتاژ کردیا۔

انہوں نے لندن ہائیکورٹ کے جج کے الفاظ نقل کرتے ہوئے کہا کہ ’نیب نے براڈ شیٹ کو دھوکا دیا۔ غیرقانونی طور پر معاہدہ ختم کیا اور براڈ شیٹ کے خلاف سازش کی۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ معاہدے سمیت عدالتی کارروائی منظرعام پر کیوں نہیں لائی جارہی۔ کیا وہ اس کے خلاف ہیں۔ کاوے موسوی نے جواب دیا کہ میں پاکستان کی حکومت کو اجازت دیتا ہوں کہ وہ نیب اور براڈ شیٹ کیس کی کارروائی منظر عام پر لائے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube