تحریک انصاف، متحدہ اورپیپلزپارٹی ملکرکراچی کیلئے کوشاں ہیں، مرادعلی شاہ

SAMAA | - Posted: Jan 16, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 16, 2021 | Last Updated: 3 months ago

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ تمام سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی ساتھ مل کر کراچی کو دنیا کے خوبصورت اور رہنے کیلئے موزوں شہروں میں سے ایک بنانے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

انہوں نے کراچی میں ہفتہ کو وفاقی وزراء اسد عمر اور امین الحق کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے کراچی میں مختلف منصوبوں کا آغاز کیا ہے جن میں اہم برساتی نالے، پانی کی فراہمی و نکاسی آب، روڈ نیٹ ورک اور ٹرانسپورٹ شامل ہیں۔

وفاقی وزیر اسد عمر نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے عوام اپنے منتخب نمائندوں کی طرف دیکھ رہے ہیں لہٰذا اپنے سیاسی اختلافات کو بھلا کر ہم نے اس شہر کی ترقی کیلئے ہاتھ ملایا ہے۔

ان کا کہنا کہنا تھا کہ ہمارے پاس سیاست کرنے کیلئے اور بھی بہت ساری چیزیں ہیں لیکن جہاں تک شہر کی ترقی کی بات ہے تو ہمیں ملکر کام کرنا ہوگا جو تمام متعلقہ سیاسی جماعتوں کیلئے اہم ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ ہماری مربوط کوششوں کی کامیابی گراؤنڈ پر کاموں کا آغاز ہے اور یہ ایک اچھی بات ہے کیونکہ جولائی تا اگست کراچی میں بارشوں کے پیش نظر اب وقت کم رہ گیا ہے اور ہمیں تب تک نالوں کی تعمیر نو سمیت مختلف کام مکمل کرنے ہیں۔

وفاقی وزیر امین الحق نے بتایا کہ شہر میں جو ترقیاتی کام شروع ہورہے ہیں ان کی مالیت 1.1 کھرب روپے ہے، گو کراچی کے ترقیاتی پیکیج کیلئے یہ رقم کافی نہیں لیکن کچھ نہ ہونے سے ہونا بہتر ہے۔

انہوں نے بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نالوں کی صفائی، پانی کی فراہمی اور سڑکیں بنانا در حقیقت یہ مقامی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔

محمود آباد نالہ

وزیراعلیٰ سندھ نے محمود آباد نالے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے نے کہا کہ یہ بطور پائلٹ منصوبہ شروع کیا گیا ہے اور اس نالے کے دونوں اطراف 12 فٹ چوڑی سڑک اور 3 فٹ چوڑے فٹ پاتھ  تعمیر کئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا ہم نے نالے کے اطراف 238 غیر قانونی مکانوں میں سے 205 کو مسمار کردیا ہے جبکہ باقی 33 کو ایک ہفتے کے اندر گرادیا جائے گا۔

گجر نالے کا نکاسی آب نیٹ ورک

مراد علی شاہ نے گجر نالہ کے بارے میں بتایا کہ یہ نالہ 51 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر ہے اور 10 مختلف مقامات پر نکاسی آب ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ای ڈی نے ہائیڈرو گرافک سروے کیا ہے جس کے تحت محمود آباد نالے کی طرح اسے بھی قدرتی کشش ثقل کے بہاؤ کے لحاظ سے بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ گجر نالے کی چوڑائی 120 فٹ سے شروع ہوتی ہے اور 35 فٹ پر ختم ہوتی ہے لہٰذا ضرورت کے مطابق اسے دوبارہ بنایا جائے گا لیکن ہماری کوشش ہوگی کہ اس کام کے دوران کم سے کم مکانات متاثر ہوں۔

دیگر منصوبے

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت نے جو دیگر منصوبے شروع کئے ہیں ان میں کے فور، سیوریج ٹریٹمنٹ، روڈ نیٹ ورک، ملیر ایکسپریس وے، گرین لائن، یلو لائن، اورنج لائن اور کے سی آر شامل ہیں۔

انہوں نے کہا  کہ چونکہ عملدرآمد کرانے والی 3 ایجنسیاں حکومت سندھ، وفاقی حکومت اور کے ایم سی تھیں لہٰذا ہم سب نے مل کر کام کیا ہے تاکہ ان منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر بروقت مکمل کیا جاسکے۔

مراد علی شاہ نے وفاقی حکومت، کے ایم سی، فوجی حکام، این ڈی ایم اے اور ایف ڈبلیو او کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو ترقیاتی کاموں میں تیزی لانے اور رہنمائی کرنے پر سپریم کورٹ کے بھی شکر گزار ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube