Friday, September 24, 2021  | 16 Safar, 1443

سرما میں ’کے2‘ پہلی مرتبہ سر کرلیا گیا

SAMAA | - Posted: Jan 16, 2021 | Last Updated: 8 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 16, 2021 | Last Updated: 8 months ago

فوٹو: ٹوئٹر

دنیا کی دوسری بلند چوٹی “کے 2” کو نیپالی کوہ پیماؤں نے موسم سرما میں سَر کرکے نئی تاریخ رقم کردی۔

نیپال کا شرپا گروپ کوہ پیمائی کی تاریخ میں موسم سرما میں کے2 سر کرنیوالا پہلا گروپ بن گیا اورعالمی ریکارڈ قائم کردیا۔ کوہ پیماؤں نے گزشتہ رات منفی 50ڈگری میں کیمپ تھری میں گزاری تھی اور آرام کے بعد آگے روانہ ہوگئے تھے۔

دنیا کی 14بلند ترین چوٹیوں میں سے 13کو موسم سرما میں سر کیا جاچکا ہے اور دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے2 وہ واحد چوٹی تھی جو موسم سرما میں اب تک سر نہیں کی جاسکی تھی۔

موسم سرما کی ہولناک سردی میں منفی 50 ڈگری سے بھی کم درجہ حرارت میں کے ٹو کو سر کرنا بہت بڑا چیلنج اور انتہائی مشکل کام ہوتا ہے کیونکہ سردیوں میں وہاں طوفانی ہوا کی رفتار 200کلو میٹر سے بھی زیادہ ہوجاتی ہے جبکہ برفانی تودے اور چٹانوں میں ٹوٹ پھوٹ معمول ہے۔

کے2 کی بلندی 8611میٹر ہے جو بلند ترین چوٹی ایورسٹ سے صرف 200میٹر کم ہے لیکن موسم سرما میں کے ٹو کے حالات جان لیوا ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک اسے سر نہیں کیا جاسکا تھا۔ اس چوٹی کو سر کرنے کی کوشش میں 86سے زائد کوہ پیما لقمہ اجل بن ہوچکے ہیں۔

کوہ پیماؤں کے ٹیم لیڈر جان اسنوری نے گزشتہ روز سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے پیغام میں کہا ہے کہ ان کی ٹیم کیمپ 3پہنچ گئے ہیں۔ موسم سازگار رہے گا تو جلد خوشخبری دیں گے۔

پاکستان کا شمالی پہاڑی علاقہ 3 پہاڑی سلسلوں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے ملاپ کی جگہ بھی ہے۔ دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں سے تین اسی علاقے میں واقع ہیں۔ کے ٹو ان میں سے ایک ہے، جس کی بلندی 8611 میٹر( 28251 فٹ) ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس کی بلندی 8611 میٹر/28251 فٹ ہے۔ اسے ماؤنٹ گڈون آسٹن اور شاہگوری بھی کہتے ہیں۔

Attempting the impossible on K2 in Winter

تاریخ پر نظر دوڑائے تو کچھ رپورٹ میں اس چوٹی سے متعلق درج ہے کہ یہ چوٹی سال 1856 میں اس وقت دریافت ہوئی، جب پہلی بار گڈون آسٹن نے یہاں کا سروے کیا۔ اس موقع پر تھامس ماؤنٹ گمری بھی اس کے ہمراہ تھے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube