Saturday, September 25, 2021  | 17 Safar, 1443

پختونخوا میں گھریلو تشدد کے خلاف قانون منظور

SAMAA | - Posted: Jan 15, 2021 | Last Updated: 8 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 15, 2021 | Last Updated: 8 months ago

Photo/Online

خیبرپختونخوا اسمبلی میں خواتین پر گھریلو تشدد کی روک تھام کا بل منظور کرلیا گیا جس کے تحت خواتین پر جسمانی تشدد کے ساتھ معاشی، نفسیاتی اور جنسی دباؤ بھی گھریلو تشدد کے زمرے میں آئیں گے اور اس پر 5 سال قید کی سزا ہوگی۔

یہ بل صوبائی وزیر سماجی بہبود ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان نے اسمبلی میں پیش کیا اور اس موقع پر بل کے بارے میں ایوان کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کے قوانین صرف جسمانی تشدد کا احاطہ کرتے تھے مگر حالیہ قانون میں ذہنی ٹارچر، معاشی اور جنسی دباؤ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

بل کے تحت تمام اضلاع میں تحفظاتی کمیٹی بنائی جائے گی۔ کمیٹی متاثرہ خاتون کو طبی امداد، پناہ گاہ اور معقول معاونت فراہم کرے گی۔ اس کے علاوہ گھریلو تشدد کے واقعات کو رپورٹ کرنے کیلئے ہیلپ لائن قائم کی جائے گی۔ تشدد ہونے کی صورت میں 15 دن کے اندر عدالت میں درخواست جمع کرائی جائے گی اور جرم ثابت ہونے پر مجرم کو پانچ سال قید کی سزا ہوگی۔

اس نئے قانون کے تحت عدالت گھریلو تشدد سے متعلق مقدمات کا فیصلہ 2 ماہ میں سنانے کی پابند ہوگی جبکہ عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی پر بھی الگ سے ایک سال قید اور 3 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube