Friday, January 15, 2021  | 30 Jamadilawal, 1442
ہوم   > پاکستان

لوٹی دولت کی تحقیقات کس نے رکوائی، براڈشیٹ کے عہدیدارکاانٹرویو

SAMAA | - Posted: Jan 13, 2021 | Last Updated: 2 days ago
Posted: Jan 13, 2021 | Last Updated: 2 days ago

براڈ شیٹ کے نمائندہ کاوے موسوی نے کہا ہے کہ انہوں نے بیرون ملک پاکستانیوں کے اربوں ڈالر کا سراغ لگایا تھا مگر 2002 کے وسط میں نیب اور حکومت پاکستان نے تحقیقات سبوتاژ کرتے ہوئے معاہدہ توڑ دیا۔

سماء ٹی وی کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں میزبان سے گفتگو کرتے ہوئے موسوی نے کہا کہ ’ہماری تحقیقات کا ہدف صرف شریف فیملی نہیں تھی۔ اس میں اور بھی لوگ تھے۔ ہم نے اربوں ڈالر کا سوراغ لگایا اور مزید تلاش جاری تھی۔ ہمارے پاس لمبی فہرست تھی اور ہم نے ان سب کی چھان بین کرنی تھی۔‘

شریف خاندان نے دعویٰ کیا تھا کہ لندن کی عدالت نے ایوان فیلڈ اپارٹمنٹس کو کلین چٹ دی ہے۔ اس کے بارے میں موسوی سے پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ لندن کی عدالت نے ایوان فیلڈ کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں دیا۔ شریف خاندان غلط بیانی کر رہا ہے۔ ایوان فیلڈ کو ہم نے کیس سے نکال دیا تھا۔

براڈشیٹ نے پاکستان کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ کیا تھا اور انہوں نے عدالتی حکم کے مطابق پاکستانی حکومت سے جرمانہ وصول کرنا تھا۔ انہوں نے حکومت پاکستان کے اکاؤنٹس سے اپنی رقم وصول کرلی۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے 2002 کی وسط سے تحقیقات روک دی تھیں۔ نیب اور حکومت پاکستان نے تحقیقات کو سبوتاژ کیا اور ہمیں دی گئی فہرست سے لوگوں کے نام نکالنے کی فرمائشیں کرتے رہے۔‘

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ آفتاب شیرپاؤ کا نام بھی ان ’کرپٹ‘ افراد کی فہرست میں شامل تھا جو ہمیں دی گئی تھی مگر پھر اس کو لسٹ سے نکال کر وزیر داخلہ بنا دیا گیا۔

نواز شریف کی جانب سے رشوت کی مبینہ آفر کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ میرے پاس انجم ڈار نامی ایک شخص آیا اور اس کا دعویٰ تھا کہ وہ نواز شریف کا قریبی عزیز ہے۔ اس نے 25 ملین ڈالر کی پیشکش کرتے ہوئے کہا تھا کہ تحقیقات چھوڑ دیں۔

ماسوے نے کہا کہ ہمیں 200 افراد کی لسٹ دی گئی تھی اور ہم نے واضح کیا تھا کہ ہم صرف نواز شریف یا کسی بھی مخصوص فیملی کی تحقیقات نہیں کریں گے کیوں کہ ہم کسی سیاسی انتقام کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ ہمارا کام کرپشن کا پیسہ ریکور کرکے پاکستان کے عوام کو واپس کرنا تھا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube