Sunday, September 19, 2021  | 11 Safar, 1443

اسامہ ستی کاقتل چھپانے کیلئے اہلکاروں نے کیا ڈرامے رچائے

SAMAA | - Posted: Jan 13, 2021 | Last Updated: 8 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 13, 2021 | Last Updated: 8 months ago

اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں نے نوجوان اسامہ ستی کو قتل کرنے کے بعد معاملہ چھپانے کیلئے تین حربے آزمائے۔ ایمبولنس کو غلط پتہ نہ دیا ہوتا تو نوجوان کی جان بچائی جاسکتی تھی۔

اسلام آباد کا رہائشی 22 سالہ نوجوان اسامہ ستی کو 2 جنوری کی رات کشمیر ہائی وے پر وفاقی پولیس کے اینٹی ٹیررسٹ اسکواڈ کے اہلکاروں نے فائرنگ کرکے قتل کیا تھا۔

اہل خانہ کے مطابق اسامہ ستی اپنے دوست کو شمس کالونی کے علاقہ میں ڈراپ کرکے واپس گھر آرہا تھا۔ پولیس کے اہلکار علاقے میں گشت پر تھے، انہوں نے مقتول اسامہ کی گاڑی کو روکا جس کے نہ رکنے پر اسے اندھا دھند فائرنگ کرکے قتل کیا۔

پولیس ترجمان نے اس وقت موقف اختیار کیا کہ اہلکاروں نے کالے شیشوں والی مشکوک گاڑی کو روکنے کی کوشش کی تو ڈرائیور نے گاڑی نہ روکی۔ پولیس نے جی ٹین تک گاڑی کا تعاقب کیا اور نہ رکنے پر گاڑی کے ٹائروں میں فائر کئے مگر فائر گاڑی کے ڈرائیور کو لگ گئے جس سے اس کی موت واقع ہوگئی۔

حکومت نے لواحقین اور عوام کے احتجاج کے بعد معاملے کی انکوائری کیلئے چیف کمشنر کے حکم پر ایک کمیٹی تشکیل دی۔ کشمنر اسلام آباد کی سربراہی میں کمیٹی نے وقوعہ کی تمام پہلوؤں پر تفتیش کی۔ تمام متعلقہ پولیس اہلکاروں اور افسران کے بیانات بھی قلمبند کیے اور حتمی رپورٹ چیف کمشنر کو ارسال کردی۔

رپورٹ میں تین بنیادی چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ کس طرح پولیس نے گاڑی پر فائرنگ کی۔ نوجوان کو زخمی کرنے کے بعد کس طرح واقعہ کو ڈکیتی کا رنگ دینے کی کوشش کی اور آخر میں اس کو سڑک پر مرنے کیلئے چھوڑ کر ایمبولینس کو بھی گمراہ کیا گیا۔

جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے مطابق پولیس اہلکاروں نے اسامہ ستی کی گاڑی کو چاروں طرف سے گھیرے میں لیا اور سیدھے فائر کردیے۔ اس سے پولیس کا یہ بیان مشکوک ثابت ہوگیا کہ گاڑی کو روکنے کیلئے ٹائروں پر فائرنگ کی گئی۔ متاثرہ کار کے اگلے شیشے میں ڈرائیور کے سامنے گولیوں کے سوراخ ہیں۔ گاڑی کے دیگر حصوں پر بھی گولیاں ہیں۔

رپورٹ کا دوسرا بنیادی نکتہ پولیس کے اس موقف کی تردید کرتا ہے کہ انہوں نے ڈکیت سمجھ کر فائرنگ کی۔ رپورٹ کے مطابق پولیس نے جب فائرنگ کی اور گاڑی سے بھی کچھ نہ ملا تو اہلکاروں نے اس کو ڈکیتی کی واردات بنانے کی کوشش کی اور یہ کہانی بنائی کہ وہ 15 کی کال پر گاڑی کا تعاقب کر رہے تھے۔

جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کا یہ انکشاف ہولناک ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح پولیس نے ریسکیو ادارے کو گمراہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق زخمی ہونے کے بعد اسامہ ستی کو فوری اسپتال منتقل کیا جاتا تو شاید وہ بچ پاتے مگر پولیس اہلکاروں نے ریسکیو ادارے کو فون کرکے ’زخمی‘ کی اطلاع دی مگر اس کو اٹھانے کیلئے ایڈریس غلط بتایا جس کے باعث ایمبولنس بھٹکتی رہی اور اسامہ ستی سڑک پر جان کی بازی ہارگیا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube