Monday, September 20, 2021  | 12 Safar, 1443

سانحہ مچھ:شہدا کی نماز جنازہ ادا،تدفین کا عمل بھی مکمل

SAMAA | and - Posted: Jan 9, 2021 | Last Updated: 8 months ago
Posted: Jan 9, 2021 | Last Updated: 8 months ago

میتیں امام بارگاہ سے روانہ کی گئیں

سانحہ مچھ میں شہید 10 کان کنوں کی کوئٹہ کے ہزارہ قبرستان میں نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد تدفین کردی گئی ہے۔ نماز جنازہ علامہ ناصر عباس نے پڑھائی۔ اس موقع پر ہزاروں کی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ نماز جنازہ کے موقع پر اجتماعی دعا بھی کرائی گئی۔

کوئٹہ کی امام بارگاہ ولی عصر  سے شہدا کی میتیں  نماز جنازہ کیلئے ہزارہ قبرستان رواںہ کی گئیں، جہاں تدفین کی گئیں۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال، صوبائی وزرا ضیا لانگو، مبین خلجی، سلیم کھوسہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی ذلفی بخاری، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری، وفاقی وزیر علی زیدی اور ایم ڈبلیو ایم کے رہنما علامہ راجہ ناصر عباس جعفری بھی موجود تھے۔

ہزارہ قبرستان میں اپنے پیاروں کو آخری الوادع کہنے والوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اس موقع پر سیکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے۔ ہزارہ ٹاؤن کے ارد گرد موبائل جیمرز بھی لگائے گئے۔ تدفین کے بعد تعزیت کیلئے آنے والوں کو امام بارگاہ ولی عصر میں بیٹھایا جائے گا۔

گزشتہ رات 8 جنوری کو حکومت اور مظاہرین میں تحریری معاہدے کے بعد مذاکرات کی کامیابی کا اعلان کیا گیا، جس کے بعد لواحقین اپنے پیاروں کی میتیں لے کر روانہ ہوگئے تھے۔

کامیاب مذاکرات کے بعد ایک گھر کے 5 شہداء کے ورثا نے مذاکرات کی کامیابی پر اطمینان اور اظہار یکجہتی کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔ شہدا ایکشن کمیٹی کا کہنا تھا کہ آج ہفتے کے روز عزت کے ساتھ اپنے شہدا کی تدفین کریں گے۔

واضح رہے کہ سانحہ مچھ کے بعد شہدا کے ورثا نے کوئٹہ میں میتوں کے ہمراہ کراچی اور لاہور سمیت ملک کے دیگر شہروں میں دھرنے دیے جب کہ کراچی میں 30 سے زائد مقامات پر دھرنے دیے گئے تھے۔

مذاکرات کی کامیابی کے اعلان کے بعد شہدا ایکشن کمیٹی کے رہنما آغا رضا نے کہا کہ ہم نے شہدا کے لواحقین کے لیے دھرنا دیا اور ان کے مطمئن ہونے پر ہی دھرنا ختم کر رہے ہیں۔ اپنے شہدا کی تدفین پورے تقدس کے ساتھ کریں گے۔ آغا رضا نے ملک بھر میں دھرنا دینے والوں سے اپیل کی کہ ہمارے تمام مطالبات تسلیم کرلیے گئے ہیں جس کے بعد تمام دھرنے پر امن طور پر ختم کردیئے گئے۔

کامیاب مذاکرات کے بعد ایک گھر کے 5 شہداء کے ورثا نے مذاکرات کی کامیابی پر اطمینان اور اظہار یکجہتی کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔ وفاقی وزیرعلی زیدی نے کہا کہ حکومت بلوچستان شہداء کے شرعی وارث کو سرکاری ملازمت اور شہداء کے زیر تعلیم کسی بھی بچے کو اسکالرشپ دیگی۔ واقعہ میں غفلت کے ذمہ دار افسران کے خلاف کاروائی ہوچکی ہے، جب کہ سانحہ مچھ کی تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔

وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کی سربراہی میں 2ارکان اسمبلی، 2سنیئر سرکاری افسران، ایک ڈی آئی جی پولیس اور 2ممبران شہداء کمیتی پر مشتمل اعلیٰ سطح کمیشن بھی تشکیل دیا گیا ہے جو ہر ماہ تحقیقات میں پیش رفت کا جائزہ لے گا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں صوبے میں سیکیورٹی اداروں کے ذریعے سیکیورٹی صورت حال پر از سر نو جائزہ لیکر حکمت عملی بنائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نادرا اور پاسپورٹ آفس کے مسائل کے حوالے سے کمیٹی بنائی گئی ہے جس میں شہداء کمیٹی کے 2ارکان شامل ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے بیان پر عوام نے تنقید کی یہ بیان شہداء کے لواحقین نہیں بلکہ ان کے لئے تھا جو مذہب کے نام پر سیاست اور ملک میں گھوم رہے ہیں اور ملک کو غلط سمت میں لیکر جارہے ہیں اور یہاں بھی آئے۔ یہ بیان ان کے لئے تھا۔

ویڈیو: مچھ سانحہ: خواتین کے “عمران خان کوئٹہ آؤ” کے نعرے

واضح رہے کہ رواں ماہ 3 جنوری کو بلوچستان کے ضلع بولان کی تحصیل مچھ کی کوئلہ فیلڈ میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں دہشت گردوں نے ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے کان کنوں کو آنکھوں پر پٹیاں اور ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انہیں اس وقت ذبح کیا ، جب کان کن اعلیٰ الصبح فیلڈ پر جانے کیلئے موجود تھے۔

مچھ : حملہ آوروں نے 11 کان کنوں کو قتل کردیا

حملے کی ذمہ داری عالمی کالعدم دہشت گرد تنظیم داعش کی جانب سے ان کی ویب سائٹ عماق پر قبول کی گئی تھی۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی ہزارہ برادری اور دیگر مسلک سے وابستہ افراد پر حملے اور قتل کی ذمہ داری داعش کی جانب سے قبول کی گئی ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube