Tuesday, December 7, 2021  | 2 Jamadilawal, 1443

لاڑکانہ سینٹرل جیل میں سرچ آپریشن، قیدیوں کی ہنگامہ آرائی

SAMAA | - Posted: Jan 7, 2021 | Last Updated: 11 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 7, 2021 | Last Updated: 11 months ago

قیدیوں کے بیرکوں سے باہر آنے پر صورتحال بےقابو

لاڑکانہ سینٹرل جیل میں ضلعی پولیس کے سرچ آپریشن کے دوران قیدیوں نے مزاحمت کی اور اپنی بیرکوں سے باہر آگئے۔ مشتعل قیدیوں نے جیل کا کنٹرول سنبھال لیا۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل میں موبائل فونز سمیت دیگر ممنوعہ اشیاء کی موجودگی سمیت کچھ قیدیوں کو دیگر اضلاع کی جیلوں میں منتقل کرنے کے لیے جیل پولیس نے جمعرات کی علی الصبح ضلعی پولیس کی مدد سے جیل میں سرچ آپریشن شروع کیا تو انہیں قیدیوں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

مزاحمت سے نمٹنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے شیل فائر کیے اور ہوائی فائرنگ بھی کی تاہم قیدی پولیس کی نفری کو جیل میں اندر جانے سے روکنے میں کامیاب رہے۔ قیدیوں نے احتجاجاً بیرکیں توڑ دیں اور بیرکوں کے باہر اپنے کپڑے جلا کر احتجاجی مظاہرہ کیا جو تاحال جاری ہے۔

قیدیوں کا کہنا ہے کے جیل میں ان کو کوئی سہولت فراہم نہیں کی جاتی جبکہ رشوت نہ دینے پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جیل حکام ہم سے 20 سے 25 ہزار روپے رشوت کے عیوض موبائل فون فراہم کرتے ہیں اور اتنے پیسے لینے کے باوجود موبائل فون واپس لینا درست عمل نہیں۔

دوسری جانب جیل پولیس کی جانب سے سرچ آپریشن کی ناکامی پر ضلعی پولیس اور رینجرز سے مدد لی گئی۔

ایس ایس پی لاڑکانہ مسعود احمد بنگش پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری سمیت لاڑکانہ سینٹرل جیل پہنچ گئے ہیں جہاں ان کی صدارت میں اعلیٰ سطحی اجلاس جاری ہے جس میں قیدیوں کے خلاف طاقت کا استعمال یا مذاکرات کا فیصلا کیا جائے گا۔

جیل سپریڈنٹ انور مصطفی کا کہنا ہے کے جیل میں اس وقت 1100 سے زائد قیدی موجود ہیں جن میں سے سینکڑوں کے پاس موبائل فون بھی ہیں۔ سرچ آپریشن شروع کیا تو پہلی بیرک میں ہی قیدیوں نے مزاحمت شروع کر دی اور اس وقت تمام قیدی بیرکوں کے باہر موجود ہیں۔ صورت حال کو کنٹرول میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube