Sunday, September 19, 2021  | 11 Safar, 1443

انفوگرافک: بلوچستان میں ہزارہ برادری پر حملوں کی تاریخ

SAMAA | - Posted: Jan 5, 2021 | Last Updated: 9 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 5, 2021 | Last Updated: 9 months ago

حملوں میں تقریباً 500 افراد ہلاک ہوچکے ہیں

بلوچستان میں دو دہائیوں کے دوران تقریباً 2 درجن دہشت گرد حملوں میں سیکڑوں ہزارہ اور شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب بلوچستان کے علاقے مچھ میں تازہ حملے میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے 10 کان کنوں کو قتل کیا گیا۔ اس حملے کی ذمہ داری داعش (ولایہ پاکستان) نے قبول کرلی۔

شدت پسند گروپ نے ایک تصویر جاری کی جس میں دو مسلح افراد قتل کئے گئے کان کنوں کی لاشوں کے ساتھ کھڑے ہیں جبکہ آئی ایس آئی ایس ( داعش) کا سیاہ رنگ کا جھنڈا بھی تصویر میں نظر آرہا ہے۔

ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے مقتولین کی میتوں کی تدفین سے انکار کرتے ہوئے کوئٹہ کے مغربی بائی پاس پر احتجاج شروع کردیا، جو اتوار سے تاحال جاری ہے۔ مذہبی اقلیت کا اس نوعیت کا یہ پہلا احتجاج نہیں۔

سماء ڈیجیٹل 2003ء سے 2021ء تک 22 بڑے دہشت گرد حملوں کی تفصیلات کا پتہ لگانے میں کامیاب ہوا ہے، جن میں 489 افراد زندگی کی بازی ہار گئے تاہم یہ تعداد کہیں زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ اس میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات شامل ہیں۔

یہ دہشت گرد حملے متعدد شیعہ مخالف تنظیموں کی جانب سے کئے گئے جن میں لشکر جھنگوی، آئی ایس آئی ایس (داعش) اور جیش الاسلام سرفہرست ہیں۔

انسانی حقوق کی کارکن جلیلہ حیدر کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بلوچستان میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے 3 ہزار افراد قتل ہوچکے ہیں۔

مئی 2018ء میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کوئٹہ کا دورہ کیا اور ہزارہ برادری سے احتجاج اور بھوک ہڑتال ختم کرنے کی درخواست کی جو انہوں نے کمیونٹی پر ٹارگٹیڈ حملوں کیخلاف شروع کر رکھا تھا۔

جلیلہ حیدر نے بتایا کہ جنرل صاحب ہمارے پاس آئے اور کہا کہ ہماری برادری کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ آرمی چیف سے ملاقات کی یادیں تازہ کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے سابقہ ادوار کی ریاستی پالیسیوں کو صوبے میں فرقہ وارانہ تشدد کی وجہ قرار دیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ اب ایسی تمام پالیسیوں کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔ جلیلہ کا کہنا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے 2018ء میں دورے کے بعد قتل کی وارداتیں کچھ ماہ کیلئے بند ہوگئی تھیں، تاہم یقین دہانی کے باوجود گزشتہ ہفتے ہزارہ برادری ایک بار پھر حملے کا نشانہ بنی۔

جلیلہ حیدر نے بتایا کہ ہزارہ برادری کے لوگ تقریباً ایک صدی سے مچھ میں کوئلے کی کانوں میں کام کررہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وہ غریب لوگ ہیں، ان لوگوں کے قتل کے بعد ان کے خاندان کیسے زندگی گزاریں گے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube