Thursday, March 4, 2021  | 19 Rajab, 1442
ہوم   > پاکستان

سینیٹ انتخابات پرصدارتی ریفرنس:اسپیکرز،چیئرمین سینیٹ اورالیکشن کمیشن سے جواب طلب

SAMAA | - Posted: Jan 4, 2021 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Jan 4, 2021 | Last Updated: 2 months ago

سیاسی معاملات میں اتفاق رائے پیدا کیوں نہیں کرتے، سپریم کورٹ

سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کروانے کیلئے صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اسپیکرز، چیئرمین سینیٹ اور الیکشن کمیشن سے جواب مانگ لیا۔ سپریم کورٹ نے استفسار کیا کہ سیاسی معاملے میں اتفاق رائے پیدا کیوں نہیں کرتے؟، عدالت مداخلت کیوں کرے؟۔

سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کیلئے صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی، عدالت عظمیٰ نے اس سوال پر کہ ایوان بالا کے انتخابات اوپن بیلٹ سے ہوسکتے ہیں؟، قومی، صوبائی اسمبلیوں کے اسپیکرز اور چیئرمین سینیٹ سے ایک ہفتے میں جواب مانگ لیا۔

سپریم کورٹ نے صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو بھی نوٹس جاری کیا ہے۔

حکومت کو ریفرنس پر سماعت کے حوالے سے اخبارات میں عوامی نوٹس شائع کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ عدالت نے  قرار دیا کہ جو بھی پارٹی اپنا مؤقف دینا چاہے تحریری طور پر جمع کراسکتی ہے۔ عدالت نے صدراتی ریفرنس کے قابل سماعت ہونے پر بھی سوال اٹھا دیئے۔

سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ سینیٹ انتخابات میں ووٹوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے، ہم اوپن بیلٹنگ کے ذریعے شفاف انتخابات چاہتے ہیں۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے اٹارنی جنرل سے کہا صدارتی ریفرنس قابل سماعت ہونے پر دلائل دیں، بتائیں عدالت سیاسی معاملے میں دخل کیوں دے؟۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا میثاق جمہوریت میں  تمام جماعتیں اوپن بیلٹ پر متفق تھیں تو سیاسی اتفاق رائے کیوں نہیں پیدا کیا جارہا؟۔ اٹارنی جنرل نے کہا یہ سیاسی معاملہ نہیں عدالت سے قانونی رائے مانگتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 226 کی تشریح کی استدعا کی گئی ہے۔

سپریم کورٹ نے کیسز کی مزید سماعت 11 جنوری تک ملتوی کردی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube