Sunday, March 7, 2021  | 22 Rajab, 1442
ہوم   > پاکستان

کوئٹہ:میتوں کے ہمراہ ہزارہ برادری کا احتجاج جاری،تدفین سے انکار

SAMAA | and - Posted: Jan 4, 2021 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Jan 4, 2021 | Last Updated: 2 months ago

تدفین ہزارہ قبرستان کوئٹہ میں ہوگی

بلوچستان کے علاقے مچھ ميں دہشت گردوں کی فائرنگ سے قتل کیے گئے ہزارہ برادری کے 10 کان کنوں کی میتوں کو بائی پاس روڈ پہنچا دیا گیا ہے، جہاں لواحقین اور ہزارہ برادری کا احتجاج جاری ہے۔

سخت سردی میں دھرنا

،مچھ میں قتل ہونے والے ہزارہ برادری کے 10 کان کنوں کے قتل کا مقدمہ تاحال درج نہ ہوسکا، جب کہ بلوچستان کی خون جما دینے والے سخت سردی کے باوجود لواحقین اور ہزارہ برادری کا میتوں کے ہمراہ دھرنا اور احتجاج جاری ہے۔ دھرنے میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ مظاہرین کان کنوں کے قتل کے خلاف مغربی بائی پاس پر دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔ مغربی بائی پاس کے دونوں اطراف کو ٹریفک کیلئے مکمل بند کردیا گیا ہے۔

مجلس واحدت مسلمین

سربراہ مجلس واحدت مسلمین نے میتوں کی تدفین سے انکار کردیا۔ ایم ڈبلیو ایم کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے آزاد تحقیاتی کمیشن اور انصاف کی یقین دہانی تک تدفین نہیں کی جائے گی۔

تدفین

 قبل ازیں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی قادر نائل نے مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد میتوں کو مچھ سے کوئٹہ میں ہزارہ ٹاؤن کے ولی العصر امام بارگاہ منتقل کرایا۔ مقتولين کی تدفين آج دوپہر 1 بجے ہزارہ ٹاون قبرستان میں متوقع تھی۔ ہزارہ قومی جرگہ اور مجلس وحدت مسلمین کا کہنا ہے یقین دہانی اور قاتلوں کی گرفتاری تک مغربی بائی پاس پر دھرنا جاری رہے گا۔ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے واقعہ کے خلاف اسمبلی میں آواز بلند کرنے کا بھی اعلان کيا ہے۔

بلوچستان بار کی ہڑتال

اظہار یکجتی کیلئے بلوچستان بار کونسل نے آج صوبے بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ بلوچستان بار کونسل کے وائس چیرمین قاسم علی گاجزئی ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ سانحہ مچھ میں مزدور محنت کشوں کے قتل اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر آج بلوچستان بھر میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے مچھ میں ہزارہ کان کنوں پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ روئٹرز کے مطابق شدت پسند تنظیم سے منسلک اعماق نیوز ایجنسی پر شائع ہونے والے بیان میں 10 کان کنوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کی گئی۔

مچھ : حملہ آوروں نے 11 کان کنوں کو قتل کردیا

ڈپٹی کمشنر کچھی محمد مراد کاسی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قتل کیے گئے کان کنوں کے گلے بھی کاٹے گئے تھے۔ ڈی سی محمد مراد کاسی کا مزید کہنا تھا کہ قتل کیے گئے کان کنوں کا تعلق ہزارہ قبیلے سے ہے۔

رپورٹ طلب

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے بھی مچھ کے علاقے گیشتری میں ہونے والے فائرنگ کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

انھوں نے فائرنگ کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے واقعے کی فوری طور پر رپورٹ طلب کی ہے، جب کہ بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کی کوئی بھی شکل قابل قبول نہیں ہے اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔

مچھ کا علاقہ

بلوچستان کے ضلع بولان کی تحصیل مچھ کا علاقہ کوئٹہ کے جنوب مشرق میں واقعہ ہے، جو 60 کلو میٹر کی دوری پر ضلع کچھی کے معروف درہ بولان میں واقع ہے۔ یہ ایک پتھریلہ اور دشوار راستہ ہے، جو پہاڑوں پر مشتمل ہے۔ اس علاقے میں بلوچستان کی اکثر کوئلہ کانیں موجود ہیں۔

برطانوی ادارے کے مطابق کان کن لیبر یونین کے صدراقبال یوسفزئی کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں کوئلے کی 62 لیز ہیں اور ان میں سے 52 فعال ہیں۔ سال 2018 میں جو اعداد و شمار اکھٹے کیے گئے تھے ان کے مطابق مچھ کی کوئلہ کانوں میں 17 ہزار کان کن کام کرتے ہیں، جب کہ مجموعی طور پر ان کانوں سے 35 ہزار افراد کا روزگار جڑا ہے۔

مچھ اور درہ بولان کا شمار بلوچستان کے ایسے علاقوں میں ہوتا ہے، جو عرصے سے دہشت گردی کا شکار رہے۔ بدامنی اور دہشت گردانہ کارروائیوں کے باعث یہاں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی تاریخ بھی لمبی ہے۔ 3 جنوری 2021 کو پیش آنے والے واقعہ سے قبل بھی ان علاقوں میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جس کی ذمہ داریاں کالعدم تنظیم نے قبول کیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube