کرک میں مندر جلانے کا واقعہ: افسران سمیت 8اہلکار معطل

SAMAA | - Posted: Jan 3, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 3, 2021 | Last Updated: 4 months ago

Karak temple fire incident

ضلع کرک کے علاقے ٹیری میں ہندو مندر جلانے کے معاملے پر ڈی ایس پی اور ایس ایچ او سمیت 8 اہلکار معطل کر دیے گئے۔

ڈی آئی جی کوہاٹ ریجن طیب حفیظ چیمہ نے افسران اور اہلکاروں کو معطل کیا۔

ترجمان پولیس کے مطابق ڈی ایس پی سرکل شیر افضل اور ایس ایچ او رحمت وزیر کو مندر واقع میں ناقص کارکردگی پر معطل کیا گیا۔

بدھ 30 دسمبر کو مشتعل افراد نے ٹیری میں ہندو مندر کو آگ لگانے کے بعد مسمار کر دیا تھا۔ واقعے میں پولیس کی ایک موٹر سائیکل بھی نذر آتش کردی گئی۔

کیس میں اب تک 60 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ واقعے میں ملوث مزید افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔

کرک:نذرِآتش کیےگئے مندرکودوبارہ تعمیر کرنےکااعلان

مقامی افراد نے الزام لگایا تھا کہ ہندو برادری مندر کی غیر قانونی طور پر توسیع کر رہی تھی جس کی اطلاع پولیس کو بھی دی گئی تاہم کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔

واقعے کے دوران پولیس کہیں نظر نہیں آئی تاہم کافی دیر بعد بھاری نفری علاقے میں پہنچی اور مشتعل افراد کو منتشر کرکے حالات پر قابو پالیا۔

وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان نے ضلع کرک میں نذرِآتش کیے گئے مندر کو دوبارہ تعمیر کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔  چیف جسٹس نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی حکومت نے جواب طلب کیا ہے۔

 واضح رہے کہ قیام پاکستان سے قبل کا یہ مندر برصغیر کی تقسیم کے بعد بند کردیا گیا تھا تاہم 2015ء میں سپریم کورٹ کی ہدایت پر اسے کھولا گیا۔ مقامی ہندو اور مسلم برادری کے درمیان ایک ہفتہ قبل مندر سے ملحقہ اراضی پر تعمیر کے حوالے سے ایک معاہدہ بھی طے پایا تھا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube