Monday, December 6, 2021  | 30 Rabiulakhir, 1443

کرک:نذرِآتش کیےگئے مندرکودوبارہ تعمیر کرنےکااعلان

SAMAA | - Posted: Jan 1, 2021 | Last Updated: 11 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 1, 2021 | Last Updated: 11 months ago

فوٹو: آن لائن

وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان نے ضلع کرک نذرِآتش کیےگئےمندر کو دوبارہ تعمیر کرنے کا اعلان کردیا۔

وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت مندر کی دوبارہ تعمیر کو جلد یقینی بنائے گی، مندر کی دوبارہ تعمیر کے سلسلے میں متعلقہ حکام کو احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔

وزیراعلی خیبرپختونخوا نے کہا کہ اقلیتوں کے مقدس مقامات کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

اس سے قبل پشاور پولیس نے مندر کو نذرِآتش کرنےمیں ملوث مولوی سمیت 15 افراد کو گرفتارکرلیا ہے۔
گذشتہ دنوں سیکڑوں افراد کے ہجوم نے قدیم مندر پر دھاوا بول کر پہلےاس کو مسمار کیا اور پھر باقیات کو آگ لگادی تھی۔ چیف جسٹس نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی حکومت نے جواب طلب کیا ہے۔

کرک پولیس نے واقعہ کے بعد سیکڑوں افراد کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے رات بھر چھاپے مارے جن میں 14 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ مقامی مولوی محمد شریف کو پولیس نے دوپہر کے وقت حراست میں لیا۔
پولیس کے مطابق ویڈیوز اور تفتیش کی مدد سے واقعہ میں ملوث دیگر افراد کی گرفتاریوں کیلئے کارروائیاں جاری ہیں۔

سیکڑوں افراد کے ہجوم نے قدیم مندر پر دھاوا بول کر پہلے اس کو مسمار کیا اور پھر باقیات کو آگ لگادی۔ چیف جسٹس نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی حکومت نے جواب طلب کیا ہے۔

کرک پولیس نے واقعہ کے بعد سیکڑوں افراد کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے رات بھر چھاپے مارے جن میں 14 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ مقامی مولوی محمد شریف کو پولیس نے دوپہر کے وقت حراست میں لیا۔

پولیس کے مطابق ویڈیوز اور تفتیش کی مدد سے واقعہ میں ملوث دیگر افراد کی گرفتاریوں کیلئے کارروائیاں جاری ہیں۔

دوسری جانب آئی جی خیبر پختونخوا پولیس ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے جلائے جانے والے مندر کا دورہ کیا جہاں آئی جی پی کو واقعے کے بارے میں تفصیل سے بریفنگ دی گئی۔

بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے کہا کہ آئین پاکستان کے تحت اقلیتوں کو حاصل بنیادی حقوق اور ان کی عبادت گاہوں کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مندر کو آگ لگانے کے واقعے کی تفتیش جاری ہے۔ واقعے کی باقاعدہ ایف آئی آر 300 سے زائد افراد کے خلاف درج کی گئی ہے اور اس ضمن میں 31 افراد کو حراست میں بھی لیا جاچکا ہے۔ باقی ملزمان کی نشاندہی ویڈیو کلپس اور فوٹیج کے ذریعے کی جارہی ہے جس کے بعد ان کی باقاعدہ گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔

گزشتہ روزکرک کے علاقے ٹیری میں قائم قدیم ترین ہندو مندر میں توسیعی کام جاری تھا کہ سیکڑوں مشتعل افراد وہاں پہنچے اور مندر کو آگ لگادی، جس کے بعد عمارت کے زیادہ تر حصے کو بھی مسمار کردیا گیا، مشتعل افراد کئی گھنٹوں تک مندر کے اطراف موجود رہے۔

ہندو رہنماء روہت کمار ایڈووکیٹ کے مطابق علاقہ مکینوں نے امن معاہدے اور سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مندر کو مسمار کیا۔

مندر جلانے والوں کا موقف ہے کہ ہندو برادری نے حدود سے تجاوز کرتے ہوئے مندر میں توسیعی تعمیرات شروع کی تھیں، جس کے حوالے سے مقامی پولیس کو بھی آگاہ کیا گیا مگر انہوں نے غیرقانونی تعمیرات نہیں رکوائیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی نہ کرنے پر علاقہ مکین مشتعل ہوئے اور مندر پر حملہ کردیا۔

واقعے کے دوران پولیس کہیں نظر نہیں آئی تاہم کافی دیر بعد بھاری نفری علاقے میں پہنچی اور مشتعل افراد کو منتشر کرکے حالات پر قابو پالیا۔

واضح رہے کہ قیام پاکستان سے قبل کا یہ مندر برصغیر کی تقسیم کے بعد بند کردیا گیا تھا تاہم 2015ء میں سپریم کورٹ کی ہدایت پر اسے کھولا گیا۔ مقامی ہندو اور مسلم برادری کے درمیان ایک ہفتہ قبل مندر سے ملحقہ اراضی پر تعمیر کے حوالے سے ایک معاہدہ بھی طے پایا تھا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube