Thursday, September 23, 2021  | 15 Safar, 1443

گوادر باڑ: ہائیکورٹ نے معاملہ صوبائی اسمبلی پر چھوڑ دیا

SAMAA | - Posted: Dec 31, 2020 | Last Updated: 9 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 31, 2020 | Last Updated: 9 months ago

Gwadar Fencing

بلوچستان ہائیکورٹ نے گوادر میں باڑ سے متعلق دائر درخواستیں نمٹاتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے پر صوبائی اسمبلی کی کارروائی کا انتظار کرنا چاہیے۔ اسمبلی بہترین فورم ہے جہاں عوامی مفاد، سکیورٹی معاملات اور سرمایہ کاری سے متعلق بات چیت ہوگی۔

بلوچستان ہائی کورڈ میں گوادرمیں باڑ لگانے سے متعلق آئینی درخواست کی سماعت چیف جسٹس ہائی کورٹ جسٹس جمال خان کاکڑ اورجسٹس عبدالحمید بلوچ پر مشتمل بنچ نے کی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ گوادر میں باڑ کے حوالے سے کیا صورتحال ہے۔ حکومت یہ بتائے کہ گوادر باڑ سے متعلق کیا پالیسی ہے۔

ایڈوکیٹ جنرل کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ گوادر میں سیف سٹی کے تحت کیمروں کی تنصیب اور سیکیورٹی کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ عوامی نمائند وں، اسمبلی اراکین اور عمائدین کو گوادر منصوبے کا علم ہے۔

رکن اسمبلی حمل کلمتی نے کہا کہ گوادر میں باڑ لگا کر شہر کو تقسیم کیا جارہا ہے۔ اس صورتحال میں گوادر کے لوگوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔

چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سے کہا کہ یہ عوامی مسائل کیوں اسمبلی میں حل نہیں ہوتے ہم نہیں چاہتے کہ کوئی حکم نامہ جاری کریں اور خدانخواستہ اسمبلی کو ڈکٹیٹ کریں۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ حکومت اسمبلی میں اپنا موقف پیش کرے گی جس پر عدالت نے ریمارکس دئے کہ بلوچستان اسمبلی بہترین فورم ہے جہاں عوامی مفاد، تحفظ، سکیورٹی معاملات اور سرمایہ کاری سے متعلق بات چیت ہوگی۔ ہمیں اسمبلی کی کارروائی کا انتظار کرنا چاہئے۔

گوادر میں باڑ سے متعلق درخواستیں وائس چیئرمین بلوچستان بارکونسل منیر کاکڑ اوررکن اسمبلی حمل کلمتی کی جانب سےدائر کی گئی تھیں۔ درخواست کے مطابق گوادر شہر کی 3 لاکھ آبادی ہے۔ باڑ لگانے کے بعد ایک لاکھ آبادی اندر اور 2 لاکھ باہر رہ جائے گی مگر اس دو لاکھ آبادی کے سارے تعلیمی ادارے، اسپتال، کاروبار اور دفاتر اندر ہوں گے۔

بچوں کو اسکول جانے میں مشکل ہوگی، کاروباری طبقے کو تجارت اور ملازمین کو آمدورفت میں رکاوٹ ہوگی۔ ماہی گیروں کا روزگار چھن جائے گا۔

مقامی لوگوں کو خدشہ ہے کہ باڑ مکمل ہونے کے بعد شہر میں داخل ہونے کیلئے چھاونیوں کی طرح پاس بنوانا پڑے گا۔ اس وقت کوئٹہ اور ملیر کینٹ سمیت دیگر چھاونیوں میں پیشگی اجازت لینے کے بعد شناختی کارڈ جمع کروانا پڑتا ہے اور پھر داخلی دروازے پر معقول وجہ بتاتے ہوئے ٹوکن لیکر اندر جانا پڑتا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube