اسلام آبادہائیکورٹ کاوفاقی حکومت کولوکل گورنمنٹ فنڈ قائم کرنےکاحکم

SAMAA | - Posted: Dec 26, 2020 | Last Updated: 5 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 26, 2020 | Last Updated: 5 months ago

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سی ڈی اے اور میونسپل کارپوریشن کے درمیان پراپرٹی ٹیکس تنازعے کا 10 احکامات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔

ہفتےکوجاری کئےگئےفیصلےمیں اسلام آباد ہائیکورٹ نےوفاقی حکومت کو لوکل گورنمنٹ فنڈ قائم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے کہا ہےکہ  میونسپل کارپوریشن کا سی ڈی اے یا حکومت پر انحصار ختم کرنے کیلئے لوکل گورنمنٹ فنڈ قائم کیا جائے جس میں پراپرٹی ٹیکس، فیس کی مد میں حاصل رقوم اورجرمانے جمع ہوں گے۔

عدالتی فیصلےمیں کہا گیا ہےکہ میونسپل کارپوریشن ٹیکس وصولی کے بعد بجلی ، پانی ، گیس اور سڑک جیسی سہولیات فراہم کرنے کی ذمہ دار ہوگی جبکہ وفاقی حکومت تمام یونین کونسلز کواپنےعلاقوں میں دفاتر کی تعمیرکےلئےضروری فنڈز بھی مہیا کرے گی۔

اس کےعلاوہ عدالت نے کہا ہے کہ سی ڈی اے کی جانب سے 2015 کے بعد وصول پراپرٹی ٹیکس بھی لوکل گورنمنٹ فنڈ میں منتقل کیا جائے،سی ڈی اے کی جانب سے وصول ٹیکس کا درست تخمینہ لگانے کے لئے آڈیٹر جنرل خصوصی آڈٹ کریں اورمیونسپل کارپوریشن 6ماہ کےاندرنیا ٹیکس پروپوزل تیار کرکے اخبار میں اشتہارجاری کرے۔

عدالتی حکم میں بتایا گیا ہے کہ نئے پروپوزل پر عوامی اعتراضات سننے کے بعد ٹیکس کا تعین کیا جائے،سی ڈی اے کی جانب سے 2018 کا ٹیکس وصولی کا نوٹیفکیشن غیر قانونی تھا،لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے بعد سی ڈی اے کے پاس ٹیکس وصولی کا کوئی اختیار نہیں۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کی جانب سے پراپرٹی ٹیکس میں 200 فیصد اضافہ کالعدم قراردیا تھا۔

عدالت نے میٹروپولیٹن کارپوریشن کوپرانےریٹس پر ٹیکس وصولی کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ ٹیکس وصولی سی ڈی اے کا اختیار نہیں۔عدالت نے2015 کےبعد سےسی ڈی اے کا پراپرٹی ٹیکس سےوصول رقم کا آڈٹ کرانےکاحکم دیا اور سی ڈی اے کوپراپرٹی ٹیکس کی رقم لوکل گورنمنٹ فنڈمیں منتقل کرنے کا حکم بھی دیا ۔اسلام آباد ہائیکورٹ نےپراپرٹی ٹیکس میں اضافےکیخلاف درخواستیں منظورکرلی تھیں۔

WhatsApp FaceBook
CDA

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube