Thursday, January 20, 2022  | 16 Jamadilakhir, 1443

رانو کو پنجرے سے کھلے جنگلے میں منتقل کرنیکا حکم

SAMAA | - Posted: Dec 23, 2020 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Dec 23, 2020 | Last Updated: 1 year ago

فوٹو: ایس پی اے آر / ٹویٹر

شامی نسل کا بھورے رنگ کا مادہ ریچھ 20 سالہ رانو گزشتہ 3 سال سے کراچی چڑیا گھر میں 25 فٹ چوڑے ایک گڑھے نما پنجرے میں قید ہے۔

سندھ ہائیکورٹ نے بدھ کے روز کیس کی سماعت کے دوران رانو کو 500 گنا بڑے پنجرے میں رکھنے کا حکم سنایا۔

جسٹس عرفان سعادت خان نے کراچی چڑیا گھر اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کی نمائندگی کرنے والے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو ہدایت کہ رانو کو فوری طور پر اس کے ساتھ ملحقہ پنجرے میں منتقل کیا جانا چاہئے۔

احکامات کراچی چڑیا گھر کے سینئر ڈائریکٹر اور کے ایم سی کو بھیجے گئے تھے۔ حتمی فیصلہ آنے تک یہ ہدایات عبوری بنیاد پر منظور کی گئیں۔

جسٹس سعادت نے ریمارکس دیئے کہ چڑیا گھر کی انتظامیہ سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ تمام جانوروں کو صحت مند اور محفوظ ماحول میں رکھا جائے۔

یہ حکم عدالت کی جانب سے ریچھ اور چڑیا گھر کی حالت کا جائزہ لینے کیلئے قائم کی گئی 5 رکنی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں دیا گیا۔

سفارش میں کہا گیا ہے کہ نیا پنجرا 2 ہزار 100 مربع فٹ پر پھیلا ہوا ہے، اس کی اہم بات یہ ہے کہ وہ زمینی سطح پر ہے، اس کے برعکس رانو جس پنجرے میں رہ رہی ہے وہ گڑھا نما ہے، نئے پنجرے میں باڑ لگانے اور تھوڑی بہت تزین و آرائش کی ضرورت ہے۔

اگر آپ چڑیا گھر جائیں تو دیکھیں گے کہ رانو بہت زیادہ تصاویر اور حصار میں گھوم رہی ہے، جس کے بارے میں ماہرین کہتے ہیں کہ یہ تکلیف کی علامت ہے۔

سوسائٹی فار پروٹیکشن آف اینیمل رائٹس کے صدر زین مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ نیا پنجرا رانو کو نفسیاتی اور جذباتی صدمے سے آزاد کرے گا، زمینی سطح کے پنجرے کے ذریعے وہ دیگر جانوروں کو دیکھ سکے گی۔

انہوں نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو میں کہا کہ یہ سیمنٹ کی ان بھوری دیواروں، جو اس کو دماغ کو کوئی محرک فراہم نہیں کرتیں، کو دیکھنے سے کہیں بہتر ہوگا۔ زین مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ جب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوتا رانو کم از کم کھیل کود اور ارد گرد گھوم سکے گی۔

رانو کی نسل کے ریچھ کی تقریباً اوسط عمر 25 سال ہوتی ہے۔ جانوروں کے حقوق کے کارکنوں نے مہم چلا رکھی ہے کہ چند سالوں سمیں ریچھ کو آزادی دی جانی چاہئے۔

کیس

یکم اکتوبر 2020ء کو بیرسٹر محسن شاہوانی کی جانب سے رانو کو کراچی چڑیا گھر میں رکھنے کیخلاف 38 افراد کے دستخط کے ساتھ ایک درخواست سندھ ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی تھی۔

درخواست گزار محسن شاہوانی نے پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ رانو کو انتہائی چھوٹی جگہ پر اس کے خاندان سے دور رکھا گیا ہے، ریچھ کو وقت پر کھانا دیا جاتا ہے اور نہ ہی دیگر ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے۔

درخواست میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ریچھ کر واپس اسکردو بھجوایا جائے جہاں اس کے خاندان کے دیگر افراد موجود ہیں، یہ جانور کراچی سے تعلق نہیں رکھتا اور شہر کی آب و ہوا اس کیلئے موزوں نہیں ہے۔

محسن شاہوانی کا کہنا تھا کہ کراچی چڑیا گھر کی حالت بہت خراب ہے اور یہ جگہ وہاں رہنے والے جانوروں کیلئے انتہائی آلودہ ہوچکی ہے، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے پاس جانوروں کیلئے فنڈز اور ماہر عملہ موجود نہیں۔

پانچ اکتوبر کو اگلی تاریخ پر عدالت نے کے ایم سی کو ہدایت کی کہ 48 گھنٹوں میں رانو کے پنجرے میں ایئر کولر یا ایئر کنڈیشنر نصب کیا جائے۔

عدالت نے جانوروں کیلئے صرف ایک ڈاکٹر مقرر کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا، جبکہ اگلی سماعت پر چڑیا گھر کا بجٹ اور ملازمین کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔ سندھ ہائیکورٹ نے سیکریٹری وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کو بھی نوٹس جاری کیا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube