Wednesday, October 27, 2021  | 20 Rabiulawal, 1443

کروناویکسین سے متعلق فرضی کہانیوں پر کان نہ دھریں، ماہرین

SAMAA | - Posted: Dec 19, 2020 | Last Updated: 10 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 19, 2020 | Last Updated: 10 months ago

ماہرین کی رائے

کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے تیار ہونے والی ویکسین کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مختلف باتیں گردش کرتی رہتی ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کے لگائے جانے سے دنیا کی آبادی میں کمی ہونی شروع ہوجائے گی اور خواتین بانجھ ہوجائیں گی یعنی ان میں بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت ختم ہوجائے گی۔

سماء نے اس حوالے سے ماہرین سے گفتگو کی ہے اور ان سے جاننے کی کوشش کی ہے کہ آیا کرونا ویکسین کے نام نہاد مضر اثرات پر روشنی ڈالنے والی ان تیزی سے وائرل ہوتی خبروں ميں کوئی صداقت ہے یا یہ سب باتیں بے بنیاد ہیں۔

نیشنل کنٹرول لیبارٹری فار بائیولوجیکل کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹرعبدالصمد نے بتایا کہ کرونا ویکسین لگنے سے نہ تو ڈی این اے میں کوئی تبدیلی واقع ہوگی اور نہ ہی اس سے خواتین بانجھ ہو جائیں گی لہٰذا کم از اس سے تو دنیا کی آبادی میں کمی آجانے کا کوئی خطرہ نہیں۔

ڈاکٹرعبدالصمد کا کہنا تھا کہ کرونا ویکسین کے پاکستان آنے میں ابھی کافی عرصہ لگ سکتا ہے اور فی الحال ویکسین کے حوالے سے گردش کرنے والی باتیں بے بنیاد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ویسے بھی فکر کی بات یوں نہیں کہ وطن عزیز کی لیباریٹریز بہت جدید ہیں ان سے ایسے کوئی بھی مضر اثرات چھپے نہیں رہ سکتے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے یہ بات قابل غور ہے کہ جس ویکسین کی ہم بات کر رہے ہیں وہ میسنجر آر این اے بیس موڈرنا اور فائیزر کی ویکسین ہیں جو ویسے بھی شائد کئی سال ہمارے ملک نہ آسکیں۔ پاکستان میں فی الحال جو ویکسین آئے گی وہ چین کی تیار کردہ ہے۔

ڈاکٹرعبدالصمد نے يہ بھی واضح کرديا کہ خواتين کو گھبرانے کی ضرورت نہيں ویکسین میں کوئی ایسا ہارمون نہیں جو بانجھ پن پیدا کرسکتا ہو۔

ویسے بھی مغرب ميں تیار ہونے والی کرونا ويکسين کے پيچھے ايسی کوئی سازش نہيں کہ اس سے دنیا کی آبادی کم ہوجائے اور نہ ہی اس بات میں کوئی صداقت ہے کہ ویکسین میں کوئی مائیکرو چپ لگی ہوگی۔ کرونا ویکسین سے ہمیں ڈرنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube