Friday, March 5, 2021  | 20 Rajab, 1442
ہوم   > بلاگز

یہ شارع عام نہیں

SAMAA | - Posted: Dec 21, 2020 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Dec 21, 2020 | Last Updated: 2 months ago

مجھے ہمیشہ سے ہی سفر کے دوران کھڑکی کے ساتھ بیٹھنے کا شوق ہے، وجہ یہ نہیں کہ وہاں سے تصاویر اچھی کھینچی جاسکتی ہیں، بلکہ کھڑکی سے باہر چلتی گاڑی میں باہر دیکھنے کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے۔

کھڑکی چاہئے ریل کی ہو، گاڑی کی یا طیارے کی ہر سفر کا اپنا مزہ ہے۔ یوں تو ریل گاڑی اور طیارے میں سفر مہینوں مہینوں میں ہوتا ہے مگر روز گاڑی میں آتے جاتے ایک ہی رستوں کو روز دیکھنا بھی برا نہیں لگتا۔ اکثر تو ایسا بھی ہوا ہے کہ برسوں سے ایک رستے پر سفر کرتے چلے آرہے ہوتے ہیں اور ارد گرد بنی چیزوں کو بھی روز دیکھتے اور پڑھتے ہیں مگر دانستہ یا غیر دانستہ طور پر وہ ہمیں یاد نہیں رہتیں۔

میرا کراچی میں زیادہ تر سفر شارع فیصل سے متصل علاقوں میں ہوتا ہے، چاہئے وہ دفتر کیلئے ہے، بازار یا کسی رشتے دار کیلئے ہو۔ مجھ سمیت آپ میں سے ہر کسی نے شارع فیصل پر سمت بتانے والے، علاقے اور اہم ہدایات کیلئے بنے بورڈز لگے دیکھے ہوں گے۔ ان بورڈز پر مختلف علاقوں کو جانے والی سمت متعین ہوتی ہے، تاکہ اگر آپ پہلی بار کسی علاقے کی جانب رواں دواں ہیں تو ان سمت کے نشانات سے اپنی منزل کا تعین کرسکیں۔

کچھ روز قبل میرا ایسے ہی لگے بندھے راستے پر دفتر سے گھر کی جانب سفر جاری تھا کہ اچانک میری نظر شاہین کمپلیکس کے پاس لگے نئے بورڈ پر پڑی۔ بورڈ کے رنگ اور اس کی حالت سے اس بات کا پتہ چل رہا تھا کہ اسے حال ہی میں نصب کیا گیا ہے۔

بورڈ پر لکھی سمتوں کو میں نے اوپر سے پڑھنا شروع کیا تو ایک دم ایک جگہ پر نظریں ٹک کر رہ گئیں۔ شاہین کمپلیکس کے ساتھ سپریم کورٹ رجسٹری اور اس سے بالکل سیدھی سڑک پریس کلب کی جانب جاتی ہے۔

کراچی میں رہنے والے ہر صحافی کیلئے پریس کلب کی کیا اہمیت ہے یہ میں یہاں نہیں بیان کروں گی کیوں کہ اس سے صحافی حضرات بخوبی واقف ہیں مگر بورڈ پر جس انداز میں پریس کلب لکھا تھا مجھے اس سے شدید اختلاف ہے۔

شاہین کمپلکس کے عین سامنے مین آئی آئی چندریگر روڈ پر بورڈ پر اس جگہ کا نام پریس کلب کے بجائے کلب پریس لکھا تھا۔ یہ وہ روڈ ہے جس پر پاکستان کے متعدد چینلز کے مرکزی دفاتر موجود ہیں، مگر آج کی تاریخ تک کسی صحافی کی جانب سے حکام بالا سے اس نام کی درستگی کیلئے کوئی خبر سامنے نہ آسکی۔

اسی بورڈ پر ترتیب کے لحاظ سے پی سی ہوٹل، کلب پریس اور ڈاکٹر ضیا الدین روڈ کے نام بھی درج ہیں۔ اس بورڈ کیساتھ گزرتی سڑک پر روزانہ ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں، موٹرسائیکلیں اور بسیں گزرتی تو ہیں، مگر ان میں سے کتنے لوگ مجھ جیسے ہونگے جنہوں نے اس نام کو اس انداز میں لکھا دیکھ کر سوچا ضرور ہوگا۔ کہنے کو شارع فیصل کا یہ حصہ اہم ترین اور ریڈ زون میں شمار ہوتا ہے مگر عین روڈ پر سب کے سامنے لگے اس بورڈ سے لاعلمی نے اسے ایک عام شاہراہ کا تاثر دے دیا ہے۔

بورڈ کیساتھ ہی اپنے فرائض انجام دیتے ایک پولیس اہل کار سے جب میں اس بورڈ کے بارے میں پوچھا تو ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ ضلعی انتظامیہ اور کمشنر کے دفاتر فون کرنے پر کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا۔ جس کے بعد ہم نے چیف انجینیر طحہٰ صاحب سے رابطہ کیا، جس پر انہوں نے ہمیں بتایا کہ یہ بورڈز لگانے کی ذمہ داری کے ڈی کی ہے اور وہ اس کو دیکھتے ہیں۔ انہوں نے غلطی کی نشاندہی کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی یہ درخواست کے ڈی اے تک پہنچا دی جائے گی تاکہ اسے درست کیا جا سکے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube