Sunday, November 28, 2021  | 22 Rabiulakhir, 1443

ادارے پراپرٹی کا بزنس کر رہے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ

SAMAA | - Posted: Dec 17, 2020 | Last Updated: 12 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 17, 2020 | Last Updated: 12 months ago

انٹیلی جنس بیورو سے جواب طلب

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اداروں کے رئیل اسٹیٹ بزنس کو مفادات کا بہت بڑا ٹکراؤ قرار دے دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ چل کیا رہا ہے۔ انٹیلی جنس بیورو کے افسران کاروبار میں ملوث ہوسکتے ہیں۔

انٹیلی جنس بیورو ( آئی بی) کی کےہاؤسنگ سوسائٹی چلانے کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ جب کوئی ادارہ اسلام آباد میں پراپرٹی کے کاروبار میں ملوث ہوتا ہے تو کیپٹل ڈولپمنٹ اتھارٹی کو ہمت نہیں ہوتی کہ اسے کچھ کہہ سکے۔

چیف جسٹس نے آئی بی کے وکیل کو مخاطب کرکے کہا کہ عدالت کو مطمئن کریں کہ سرکاری افسر کیسے بالواسطہ یا بلاواسطہ پراپرٹی کا بزنس کرسکتا ہے اور کیا آئی بی کے افسران اس طرح کے کاروبار میں ملوث ہوسکتے ہیں؟

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ یہ چل کیا رہا ہے۔ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ اور بہت بڑا مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ پورے اسلام آباد میں تمام ادارے رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں ملوث ہیں۔

آئی بی کے وکیل نے جواب جمع کرانے کے لیے مہلت کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے سماعت جنوری تک ملتوی کردی۔

سارنگ خان نامی درخواست گزار نے آئی بی کوآپریٹو سوسائٹی کے کوآرڈینیٹرز کی تعیناتی چیلنج کر رکھی ہے۔

گزشتہ روز بلوچستان ہائیکورٹ نے ڈی ایچ اے ایکٹ 2015 کی بعض شقوں کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا تھا۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ ڈی ایچ اے کو اراضی کے حصول کی اجازت دینا غیر آئینی اقدام ہے۔ صرف وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوامی مفاد میں زمین حاصل کرسکتی ہیں۔

بلوچستان ہائیکورٹ میں ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی ایکٹ کے خلاف کاشف کاکڑ ایڈوکیٹ کی درخواست پر چیف جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے سماعت کی۔ پنچ میں جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس عبدالحمیدبلوچ اور جسٹس عبداللہ بلوچ شامل ہیں۔

درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا کہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے لیے بلوچستان اسمبلی سے منظور کیے گئے قانون کی بعض شقیں آئین سے متصادم ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کے بنیادی حقوق سلب ہورہے ہیں۔  ڈی ایچ اے سرکاری ادارہ نہیں مگر اس کے باوجود اس کے لیے بنائے گئے قانون کو پہلے سے موجود سرکاری اداروں کوئٹہ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی اور بلوچستان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی سمیت تمام قوانین پر بالاتر قرار دیا گیا ہے۔

درخواست گزاروں کے مطابق لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے تحت صرف سرکاری اداروں کو شہریوں سے زمین کے حصول کا اختیار ہے مگر بلوچستان اسمبلی نے ڈی ایچ اے کو یہ اختیار دیا جس کی بنیاد پر اتھارٹی شہریوں سے ان کی آبائی زمینیں زبردستی حاصل کررہی ہے۔

چیف جسٹس جمال خان مندوخیل نے ڈی ایچ اے ایکٹ کے خلاف درخواست پر فیصلہ پڑھ کر سنایا۔ عدالت نے ڈی ایچ اے ایکٹ 2015 کی شق نمبر دو۔ کیو۔ چھ بی 1-14 اور 14 بی کو آئین کے متصادم قرار دیا۔

کالعدم قرار دیے گئے ان شقوں کے تحت ڈیفنس ہاﺅسنگ اتھارٹی کو کوئٹہ سمیت بلوچستان کے کسی بھی ضلع میں اراضی کے حصول کی اجازت تھی اور کسی بھی علاقے کو ڈی ایچ اے کا نوٹیفائی ایریا قرار دیا جاسکتا تھا۔

ان شقوں کے تحت ان مختص کردہ علاقوں میں کوئی بھی سرکاری و غیر سرکاری ادارہ کوئی ماسٹر پلان یا کوئی منصوبہ ڈی ایچ اے کی اجازت کے بغیر شروع نہیں کرسکتا تھا۔

عدالت نے ڈی ایچ اے کے ایکزیکٹیو بورڈ کو مخصوص علاقے کے استعمال کی دی گئی اجازت کو بھی کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ ڈی ایچ اے کو اراضی کے حصول کی اجازت بھی غیر آئینی اقدام ہے۔ صرف وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوامی مفاد میں زمین حاصل کرسکتی ہیں۔

چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ نے ریمارکس دئیے کہ 2015 میں اس وقت کی حکومتوں کو یہ اختیار نہیں تھا کہ وہ نجی یا غیرسرکاری ادارے کو زمین کے حصول کا اختیار دے سکیں۔ صوبائی حکومت اور قانون سازوں نے آئینی طور پر سرکاری ادارے کی بجائے غیرسرکاری ادارے کو فوقیت دی۔

عدالت نے کہا کہ قانون سازوں کو قانون سازی اور ترامیم کا اختیار حاصل ہے لیکن آئین سے متصادم قانون سازی نہیں ہونی چاہیے۔ جس طرح ڈی ایچ اے 2015 ایکٹ کی قانون سازی ہوئی وہ اس وقت کی حکومت اور اراکین اسمبلی کی نا اہلی اورعدم قابلیت ظاہر کرتی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube