اسلام آبادمیں اشرافیہ کا قبضہ،غریب کواراضی کامعاوضہ بھی نہیں ملتا،ہائیکورٹ

SAMAA | - Posted: Dec 10, 2020 | Last Updated: 5 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 10, 2020 | Last Updated: 5 months ago
Islamabad-high-court

فائل فوٹو: اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر کا منظر

 اسلام آباد ہائیکورٹ نےوفاقی ترقیاتی ادارے پر برہمی کا اظہار کرتےہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ایک طرف اشرافیہ کا قبضہ ہے تودوسری جانب غریب کواپنے باپ دادا کی اراضی کا معاوضہ بھی نہیں مل رہا ہے۔چیف جسٹس نےریمارکس دیئےکہ وزیراعظم عمران خان ٹھیک کہتے ہیں کہ یہاں ایک نہیں دوپاکستان ہیں،غریب کیلئےالگ جبکہ امیر کیلئے الگ نظام ہے۔

جمعرات کواسلام آباد کے نئے سیکٹرز کی تعمیر سے بے گھرہونے والے متاثرین کو معاوضوں کی عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت ہوئی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی ترقیاتی ادارے پر شدید برہمی کا اظہارکیا۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ جن لوگوں سے باپ دادا کی زمینیں چھینی گئیں وہ معاوضوں کے لیے دھکے کھا رہے ہیں،اسلام آباد میں اشرافیہ کا قبضہ ہے اور غریب کو اراضی کا معاوضہ بھی نہیں ملتا،وزیراعظم ٹھیک کہتے ہیں کہ یہاں ایک نہیں دو پاکستان ہیں،ایک پاکستان امیراورطاقتور کے لیے جبکہ دوسرا غریب کیلئے ہے۔

چیف جسٹس نےمزید ریمارکس دیےکہ1968 اور1976 کے معاوضے اب تک نہ ملنے پر کیا جواز پیش کیا جاسکتا ہے،یہ 75 سالوں کا عکس ہے کہ اس ملک کو کیسے چلایا جارہا ہے،ہرایک کا سر شرم سے جھک جاناچاہیے۔

عدالت نے مزید کہا کہ کیوں نہ سی ڈی اے کے تمام چیئرمین اور اس دوران کے بورڈ ممبرز پر بھاری جرمانے لگائیں؟۔عدالت نے کیس کی سماعت کل بروز جمعہ تک ملتوی کردی۔

WhatsApp FaceBook
CDA

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube