Monday, March 8, 2021  | 23 Rajab, 1442
ہوم   > پاکستان

محمودآباد نالے کی ری ماڈلنگ کی منظوری دے دی گئی

SAMAA | - Posted: Dec 3, 2020 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 3, 2020 | Last Updated: 3 months ago

میپ: سماء ڈیجیٹل

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پہلے مرحلے میں محمود آباد نالے کی ری ماڈلنگ کی منظوری دے دی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہمیں اس مسئلے کو بہترین طریقے سے حل کرنا ہے تاکہ شہر میں اربن فلڈنگ کا خاتمہ ہوسکے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے جمعرات کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں این ای ڈی یونیورسٹی کے زیر اہتمام محمود آباد نالے کی اسٹڈی کا جائزہ لینے سے متعلق اجلاس کی صدارت کی۔ جس میں صوبائی وزراء سعید غنی، ناصر حسین شاہ، مشیر قانون مرتضی وہاب، چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم، ایڈمنسٹریٹر کراچی افتخار شالوانی، وی سی این ای ڈی یونیورسٹی ڈاکٹر سروش لودھی، سیکریٹری لوکل گورنمنٹ نجم شاہ اور دیگر نے شرکت کی۔

وائس چانسلر این ای ڈی نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ریجن کے ہائیڈرولوجیکل ریجیم کے مطابق محمود آباد نالے کا کیچمنٹ ایریا 19.03 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے، بیشتر مصنوعی تعمیر شدہ نکاسی آب کے نالوں کا پانی محمود آباد نالے میں جاکر گرتا ہے، جس میں ڈی ایچ اے نکاسی آب کا ایک حصہ بھی شامل ہے جوکہ 2.96 کلو میٹر پر مشتمل ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ محمود آباد نالہ جو کورنگی روڈ سے فائر اسٹیشن تک ہے، اس کی اصل لمبائی 3.57 کلومیٹر ہے جس کی چوڑائی مختلف مقامات پر 2.3 میٹر سے 3.75 میٹر تک ہے، محمود آباد نالے کی کچھ مقامات پر بہت گہری اور کچھ جگہوں پر بہت کم گہرائی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبائی حکومت محمود آباد نالے کا 80 میٹر چینل تعمیر کرے گی تاکہ مختلف مقامات پر گہرائی اور چوڑائی کو صحیح طریقے سے بنایا جاسکے تاکہ قدرتی برساتی پانی کے بہاؤ کو یقینی بنایا جاسکے۔

مراد علی شاہ نے این ای ڈی یونیورسٹی کی ٹیم کو ایک متوازی اسٹڈی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے کہ محمود آباد نالے کے ساتھ گندے پانی کے نکاسی کیلئے ایک الگ ڈرینج چینل تعمیر کیا جاسکتا ہے یا اسی نالے میں پانی کو نکالنے کیلئے نالے کی تعمیر ہی کافی ہوگی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ عام طور پر 55 کیوسک گندا پانی محمود آباد نالے میں بہتا ہے لہٰذا اسے مزید وسیع کرکے برساتی پانی کے نالے کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے، تاہم جب بھی شہر میں بڑی مقدار میں بارش ہو تو بارش کے پانی کو پمپ کرنے کیلئے ایک پمپنگ اسٹیشن لگایا جاسکتا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے وزیر بلدیات سید ناصر شاہ کو ہدایت کی کہ وہ نالے کے اختتام پر جہاں یہ سمندر ختم ہوتا ہے، وہاں ایک پمپنگ اسٹیشن اور ٹریٹمنٹ پلانٹ کا منصوبہ تیار کریں، میں چاہتا ہوں کہ ٹریٹ شدہ (فضلہ) پانی کو سمندر میں ٹھکانے لگایا جائے لیکن اس کو کے ایم سی اور ڈی ایم سیز سنگین مقاصد کیلئے استعمال کررہے ہیں۔

مراد علی شاہ نے یہ بھی کہا کہ نالے کے دونوں کناروں پر ایک سڑک تعمیر کی جائے گی تاکہ مستقبل میں ٹریفک کا آسانی سے بہاؤ اور تجاوزات کو روکا جاسکے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube