Monday, January 18, 2021  | 3 Jamadilakhir, 1442
ہوم   > پاکستان

سول سرونٹس کارکردگی اور نظم وضبط رولز 2020ء کی منظوری

SAMAA | - Posted: Dec 2, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 2, 2020 | Last Updated: 2 months ago

فوٹو: ریڈیو پاکستان

وزیرِ اعظم عمران خان نے پاکستان سول سرونٹس کارکردگی اور نظم و ضبط قواعد 2020 (سول سرونٹس ایفی شنسی اینڈ ڈسپلن رولز 2020ء) کی منظوری دے دی۔ جس کا مقصد سرکاری ملازمین کی کارکردگی کو بہتر کرنا اور محکمانہ احتساب کے نظام کو شفاف اور مؤثر بنانا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے منظور کئے گئے سول سرونٹس کارکردگی اور نظم و ضبط کے قواعد 2020ء کے مطابق محکمانہ احتساب کے عمل کو تیز بنانے کی خاطر افسر مجاز(اتھورائزڈ آفیسر) کا درجہ ختم کر دیا گیا ہے، لہٰذا اب صرف اتھارٹی اور انکوائری افسر/کمیٹی ہوں، اس عمل کو دو درجات میں کرنے سے  مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بغیر نچلی سطح پر ہی افسر مجاز کی جانب سے معمولی سزائیں دیئے جانے کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔

نئے  قواعد میں ہر مرحلے کیلئے ٹائم لائنز مقرر کردی گئی ہیں، چارجز (الزامات) کا جواب دینے کیلئے دس سے چودہ دن کا وقت دیا جائے گا جبکہ انکوائری کمیٹی/افسر کی جانب سے کارروائی مکمل کرنے کا وقت 60 دن متعین کیا گیا ہے اور اتھارٹی کی جانب سے کیس کا فیصلہ 30 دنوں میں کیا جائے گا۔

نئے قواعد کے مطابق انصاف کے تقاضوں کو یقینی بنانے اور الزام علیہ کو شخصی سماعت کا موقع اتھارٹی/سماعت کرنے والے افسر کی جانب سے فراہم کیا جائے گا جبکہ پلی بارگین اور والینٹری ریٹرن کو بھی بدعنوانی (مس کنڈکٹ) کے زمرے میں شامل کیا گیا اور ایسے افسران کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

منظور شدہ سول سرونٹس کارکردگی اور نظم و ضبط قواعد کے تحت ریکارڈ کی فراہمی، محکمانہ نمائندے کی جانب سے تاخیر، معطلی، ڈیپوٹیشن، رخصت، اسکالر شپ پر گئے افسران کے حوالے سے معاملات کو واضح طور پر وضع کردیا گیا ہے، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ان قواعد کے حوالے سے ذیلی قواعد/وضاحت کے ساتھ وضع کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

نئے قواعد کے مطابق کسی ایسے کیس میں جہاں متعدد افسران پر الزام ہو، وہاں صرف ایک انکوائری افسر مقرر کیا جائے گا، اس اقدام کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا اور ایک ہی کیس میں مختلف انکوائری افسران کی جانب سے مختلف فیصلوں کی شکایت کو دور کرنا ہے۔

سول سرونٹس رولز 2020ء کے تحت پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پولیس کے افسران جو صوبوں میں تعینات ہوں گے، ان کے حوالے سے چیف سیکریٹری صاحبان کو دو ماہ میں فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ پیش کرنا ہوگی بصورت دیگر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن خود کارروائی کرے گا۔

واضح رہے کہ نیب میں کرپشن، اختیارات کے غلط استعمال اور دیگر جرائم پر کی جانیوالی انکوائریز کے ملزمان میں سرکاری ملازمین پہلے نمبر پر ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق قومی احتساب بیورو ميں جاری نئی انکوائریوں میں 69 فیصد سرکاری ملازمین کيخلاف ہيں، صرف گزشتہ 3 ماہ ميں سرکاری مشينری کیخلاف شروع کی جانیوالی انکوائریوں کی تعداد 59 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ سرکاری ملازمین کیخلاف 20 نئی انویسٹی گیشنز کی بھی منظوری دی گئی ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube