Monday, January 18, 2021  | 3 Jamadilakhir, 1442
ہوم   > پاکستان

پوری فوج نہیں،کچھ لوگ مارشل لا لگانا چاہتے ہیں،اسحاق ڈار

SAMAA | - Posted: Dec 1, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 1, 2020 | Last Updated: 2 months ago

سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ فوج بطور ادارہ نہیں بلکہ کچھ لوگ ہیں جو جمہوریت کو کمزور اور ملک میں مارشل لا نافذ کرنا چاہتے ہیں۔

اسحاق ڈار اس وقت لندن میں خود ساختہ جلاوطنی کاٹ رہے ہیں جہاں نے انہوں نے بی بی سی کے ٹاک شو’ہارڈ ٹاک‘ میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کو درپیش معاشی مسائل، اپوزیشن کی حکومت مخالف حکمت عملی اور نواز شریف کے فوجی قیادت پر سنگین الزامات سے متعلق معاملات پر روشنی ڈالی ہے۔

بی بی سی اردو سروس نے ان کے انٹرویو کو رپورٹ کی صورت میں مرتب کیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ’ہارڈ ٹاک‘ کے میزبان نے ان سے پوچھا کہ نواز شریف نے ہزاروں لوگوں کے سامنے یہ الزام عائد کیا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ 2018 کے انتخابات میں دھاندلی، انھیں وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانے اور ملک میں معاشی بدحالی کے ذمہ دار ہیں۔ اس الزام کے بعد مسلم لیگ کی حکمت عملی کیا ہو گی۔

اسحاق ڈار نے جواب دیا کہ ’یہ حقیقت ہے۔ ڈیپ اسٹیٹ کے بارے میں سب کو علم ہے کہ وہ ایسا کرتی ہے۔ ہیلری کلنٹن بھی ڈیپ اسٹیٹ سے متعلق پاکستان کی مثال دے چکی ہیں۔ بات ڈان لیکس سے شروع ہوئی۔ نواز شریف جمہوریت اور پارلیمان کی بالادستی کے لیے لڑ رہے ہیں۔ کیا اس میں کوئی برائی ہے۔ برطانیہ بھی تو جمہوریت اور جمہوری اقدار کی حمایت کرتا ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ آپ تو ہمارا ساتھ دیں گے۔‘

ان سے پوچھا گیا کہ ’کیا وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستانی فوج اور آرمی چیف پاکستان میں تمام جمہوری عمل کو کمزور بنا رہے ہیں۔ اس پر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’یہی تو عالمی رپورٹس کہہ رہی ہیں۔ صرف ہم یہ نہیں کہہ رہے۔‘

اسحاق ڈار نے کہا کہ ’پاکستانی فوج کا پورا ادارہ نہیں، ہمیں کچھ افراد کی بات کرنی ہو گی۔ یہ پورے ادارے کی بات نہیں ہو رہی۔ ہمیں اس میں فرق کرنا ہو گا۔ یہ کچھ لوگوں کی خواہش اور منصوبہ ہے۔ جو پاکستان میں مارشل لا لگاتے ہیں۔‘

سابق وزیر خزانہ سے جب ان کی جائیدادوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ’میرے پاس صرف ایک پراپرٹی ہے، پاکستان میں میرا گھر ہے جو موجودہ حکومت نے مجھ سے چھین لیا ہے۔ لندن میں جائیداد ان کے خود مختار بیٹے کی جو 17 سال سے وہاں کاروبار کر رہے ہیں۔‘

میزبان نے ان سے پوچھا کہ ’نواز شریف کئی سالوں تک جنرل ضیا کے ساتھ کام کر رہے تھے اور اب ایسا کہہ رہے ہیں، کیا یہ منافقت کے مترادف ہے؟‘ اسحاق ڈار نے جواب دیا کہ  ’یہ منافقت نہیں، ارتقا کا عمل ہے۔‘

ان سے پوچھا گیا کہ’اسحاق ڈار صاحب آپ پاکستان میں اشتہاری اور مطلوب ہیں۔ تو کیا آپ قانون سے بچنے کے لیے لندن آئے ہیں؟‘

اسحاق ڈار نے جواب دیا کہ ’نہیں، ایسا بالکل نہیں ہے۔ میرے خیال میں آپ پاکستان کی سیاسی تاریخ سے واقف ہوں گے کہ گذشتہ 73 برسوں کے دوران مختلف آمریت کے ادوار میں کرپشن کے بیانیے کو بار بار استعمال کیا گیا ہے۔ اور یہ اس مرتبہ بھی اس سے کچھ مخلتف نہیں ہے کیونکہ موجودہ حکومت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک پوشیدہ آمریت ہے، ایک جوڈیشل مارشل لا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’میں یہ ثابت کر سکتا ہوں کہ میرے اوپر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں، میرا نام پاناما پیپرز میں نہیں تھا۔ میں اپنے اوپر لگے الزامات کے خلاف ثبوت پیش کر سکتا ہوں۔‘

اینکر نے سوال کیا کہ ’آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ کا نام پانامہ پیپرز میں نہیں تھا۔ لیکن 2016 میں جاری ہونے والی دستاویزات کے مطابق پاکستان سے بڑی تعداد میں پیسہ باہر منتقل کیا گیا اور اس میں ملک کے چند با اثر اور اعلیٰ خاندان ملوث تھے، تو ہمارے پاس یہ ماننے کی وجہ ہے کہ کیا اس میں صرف نواز شریف کا خاندان ہی نہیں بلکہ آپ کا خاندان بھی ملوث ہے؟

اسحاق ڈار نے جواب دیا کہ ’میرا نام ان دستاویزات میں کہیں درج نہیں ہے۔‘

میزبان نے ان سے سوال کیا کہ ’لیکن پاکستان کا قومی احتساب بیورو (نیب) اس نتیجے پر پہنچا کہ آپ کے اکاؤنٹس کے ساتھ سنگین مسائل ہیں۔‘ اسحاق ڈار نے جواب دیا کہ ’بالکل بھی نہیں۔ آپ یقیناً جانتے ہوں گے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ کی ہدایت پر ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنائی گئی، جو سپریم کورٹ کی جانب سے ماورائے عدالت اقدام تھا۔ اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں دو فوجی افسران بھی شامل تھے جو دراصل اس پوری ٹیم کی نگرانی کر رہے تھے۔‘

نیب سے متعلق ایک جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اپنی اہمیت بہت پہلے ہی کھو چکا ہے۔ یہ ایک ایسا ادارہ ہے جو سیاسی مخالفین کے خلاف انتقام کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ میں حکومت میں رہتے ہوئے بھی اس پر پریس کانفرنس کر چکا ہوں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جے آئی ٹی میں میرے خلاف الزام یہ تھا کہ میں نے 1981 سے 2001 تک 20 سال کے عرصے میں پاکستان میں اپنے ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کروائے۔ میں برطانیہ سے چارٹرڈ اکاؤنٹننٹ ہوں، جب میں برطانیہ میں تھا تو میں نے کبھی اپنے گوشوارے جمع کروانے میں کوتاہی نہیں کی۔ لہذا میرے خلاف یہ نہایت غلط الزام ہے۔‘

اسحاق ڈار سے پوچھا گیا کہ ’آپ کی اور آپ کے خاندان کی کل کتنی جائیدادیں ہیں؟‘ انہوں نے جواب دیا کہ ’میں شفافیت پر یقین رکھتا ہوں اور میں نے اپنے تمام اثاثے اپنے گوشواروں میں ظاہر کیے ہوئے ہیں۔ میرے پاس صرف ایک پراپرٹی ہے، پاکستان میں میرا گھر ہے جو موجودہ حکومت نے مجھ سے چھین لیا ہے۔‘

اس پر ان سے پوچھا گیا کہ ’لیکن خبروں میں بتایا جاتا ہے کہ آپ کی دبئی اور لندن میں جائیدادیں ہیں۔ کیا آپ اور آپ کے خاندان کے پاس صرف ایک پراپرٹی ہے؟‘

اس پر اسحاق ڈار نے جواب دیا کہ ’یہ (الزامات) درست نہیں۔ میرے بچوں کا صرف ایک ولا ہے جو اُن کی ملکیت ہے کیونکہ وہ 17 سال سے کاروبار کر رہے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’میرے بچے آزاد ہیں اور میری سرپرستی میں نہیں۔‘

پاکستان واپس آنے کے بارے میں اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ تقریباً تین سال سے لندن میں ہیں اور ان کے وکلا پاکستان میں مقدمات کو دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے؟ انسانی حقوق کہاں ہیں؟ نیب کی حراست میں لوگوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ درجنوں لوگوں کو مار دیا گیا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اس ادارے کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ مسئلہ کچھ الگ ہے۔ نواز شریف سویلین بالادستی کے لیے لڑ رہے ہیں۔ جن دو مقدمات میں نواز شریف کو سزا ہوئی ہے، دونوں فیصلوں میں لکھا گیا ہے کہ استغاثہ کوئی بدعنوانی ثابت نہیں کر سکی۔ تو اور کیا چاہیے؟‘

اس پر اینکر کی جانب سے ان سے کہا گیا کہ ’نواز شریف اور آپ سزا یافتہ ہیں اور علاج کی غرض سے لندن میں بیٹھے قبل از وقت انتخابات کی بات کر رہے ہیں، تو آپ دونوں کی کیا ساکھ ہے؟‘

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کی حکومت کی کیا ساکھ ہے؟ دنیا دھاندلی اور چوری شدہ انتخابات دیکھ چکی ہے۔ رائے عامہ کے تمام جائزوں نے پیشگوئی کی تھی کہ مسلم لیگ نواز جیت جائے گی۔ مبصرین اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے انھیں تاریخ کے بدترین انتخابات قرار دیا۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ ہم سے الیکشن چُرایا گیا۔‘

سابق وزیر خزانہ نے بتایا کہ ’فافین کا نیٹ ورک عالمی سطح پر کام کرتا ہے۔ فافن کے مطابق اس الیکشن کو چُرایا گیا ہے۔ قبل از وقت دھاندلی ہوئی۔ نیب کا استعمال کر کے ہماری جماعت سے الیکٹیبلز کو ان کی تحریک انصاف میں دھکیلا گیا۔ آر ٹی ایس سسٹم رُک گیا تھا اور اسے کئی گھنٹوں تک بند رکھا گیا۔‘

اسحاق ڈار نے کہا کہ ’نواز شریف وزیر اعظم یا عام شہری کی حیثیت سے فوج کے مخالف نہیں۔ وہ کچھ افراد کو قصور وار ٹھہراتے ہیں۔ یہ چیز اعلیٰ قیادت میں شروع ہوتی ہے۔ ڈان لیکس کی تاریخ سے آپ واقف ہوں گے۔ ہم نے ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالا۔ مجھے لگتا ہے نواز شریف اگر حلف اور آئین کی خلاف وزری کے بارے میں بات کرتے ہیں تو اس میں کیا غلط ہے؟‘

وزيراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے انٹرویو پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسحاق ڈار کی کوئی پراپرٹی نہیں ہے تو یہ بات واپس آکر عدالتوں کو بتائیں۔ بی بی سی کو کیوں بتارہے ہیں۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اسحاق ڈار کے انٹرویو کو پاکستانیوں کیلئے شرمندگی کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی ہے کہ لندن ڈاکوؤں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ یہ برطانوی حکومت کیلئے بھی افسوس کا مقام ہے اور اسحاق ڈارکوواپس نہ لانا حکومت کی ناکامی ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ اسحاق ڈار خود کوبے گناہ سمجھتے ہیں تو وطن واپس آکر قانون اور عدالتوں کا سامنا کریں۔

شبلی فراز نے کہا کہ اسحاق ڈار کو کس نے مشورہ دیا تھا کہ بی بی سی میں جا کر اپنی بے عزتی کروائیں۔ مسلم لیگ کے رہنما کوشش کے باوجود بھی سچ نہیں بول سکتے۔  ان کی قیادت کی ساری سیاست جھوٹ پرمبنی ہے۔

مکمل انٹرویو پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube