Monday, April 12, 2021  | 28 Shaaban, 1442

بلین ٹری سونامی کا نوٹس،سپریم کورٹ نے تفصیلات مانگ لیں

SAMAA | - Posted: Dec 1, 2020 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 1, 2020 | Last Updated: 4 months ago

سپریم کورٹ نے بلین ٹرمی سونامی کا از خود نوٹس لیتے ہوئے حکومت سے درختوں کے مقامات اور اخراجات سے متعلق تمام تر تفصیلات طلب کرلیں۔

منگل کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے دریاؤں اور نہروں کے کناروں پر شجرکاری سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ عدالتی کارروائی اس وقت نیا رخ اختیار کرگئی جب چیف جسٹس نے سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی کو طلب کیا اور انہیں ہدایت کی کہ 10 ارب درخت منصوبے کا سارا ریکارڈ لے کر آئیں۔

عدالت نے کہا کہ بتایا جائے منصوبے پر اب تک کتنے فنڈز خرچ ہوئے اور فنڈز خرچ ہونے کا جواز بھی بمعہ ریکارڈ پیش کیا جائے۔ کتنے درخت کہاں لگے۔ اس تعداد کی کون تصدیق کرتا ہے۔ تمام تفصیلات تصاویر سمیت پیش کی جائیں جبکہ وزارت موسمیاتی تبدیلی سیٹلائٹ تصاویر پیش کرے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بتایا جائے، ان درختوں کی دیکھ بھال اور تحقیقات کون کر رہا ہے۔ اسلام آباد، پشاور موٹروے پر درختوں کا وجود ہی نہیں۔ ملک کے کسی ہائی وے کے اطراف درخت موجود نہیں۔ بلین ٹری منصوبے کے حوالے سے دعوے کے شواہد فراہم کیے جائیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں زمین پر لگے درخت نظر آنے چاہئیں۔ شہروں میں گندگی ہونے کے باعث زیادہ درخت لگائے جائیں۔ ہماری آئندہ نسل کے لیے سانس لینا دشوار ہوگا، ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کیلئے کچھ کرنا ہے، ہم اس ملک میں حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ماحولیات سے پوچھا کہ اسلام آباد میں 5 لاکھ درخت کہاں لگائے گئے ہیں۔ اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں۔ آپ نے سارے درخت بنی گالہ میں ہی لگائے ہوں گے۔

جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ اس معاملے پر ‏تمام تفصیلات عدالت میں جمع کرادی جائیں گی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ بڑی مغرور ہے۔ اگر توہین عدالت کا نوٹس ملا تو ساری جمع پونجی ختم ہوجائے گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد میں درخت کٹ رہے ہیں۔ کشمیر ہائی وے پر بے ترتیب درخت لگے ہیں۔ ‏درخت خوبصورتی کے بجائے بدصورتی پیدا کررہے ہیں۔ درخت قوم کی دولت اور اثاثہ ہیں لیکن ‏اسلام آباد سے کراچی تک جائیں، دریا کنارے کوئی جنگل نہیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ خیبرپختونخوا کا بلین ٹری سونامی کہاں ہے، صوبے میں لاکھوں درخت کاٹے جاتے ہیں۔ نتھیا گلی میں درخت کٹ رہے ہیں۔ ناران کاغان کچرا بن گیا ہے۔ کمراٹ، مالم جبہ، پشاور کہیں درخت نہیں۔ جس پر خیبر پختونخوا کے ایڈوکیٹ جنرل نے بتایاکہ مجموعی طور پر 73 لاکھ درخت لگائے ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ‏کاغذوں میں آدھا پاکستان جنگل ہے۔ اصل میں جنگل کہیں نہیں۔

سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی عدالت میں پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے بلین ٹری سونامی سے متعلق پوچھا۔ سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی نے بتایا کہ 43 کروڑ درخت ملک بھر میں لگائے جاچکے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ درخت کہاں لگے ہیں۔ اتنے درختوں کا لگنا ناقابل فہم ہے۔ اگر 43 کروڑ درخت لگ چکے ہوتے تو پاکستان کی تقدیر بدل جاتی۔ اتنے درخت لگنے سے ہمارا موسم بالکل تبدیل ہوجاتا۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ 43 کروڑ درخت کہاں سے لائے گئے۔ سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی نے جواب دیا کہ اپنے ملک کی نرسریوں سے تمام درخت منگوائے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عجیب بات ہے۔ اتنے زیادہ درخت نرسریوں میں کیسے پڑے ہوئے تھے۔ ہم پورے ملک میں مجسٹریٹ بھجوا کر 430 ملین درخت لگنے کی تحقیقیات کروائیں گے۔

سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ گزشتہ برس سے 10 بلین ٹری سونامی پر کام کا آغاز کیا۔ دو برسوں کے دوران 43 کروڑ درخت ملک کے مختلف شہروں میں لگا چکے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ یہ درخت کتنے رقبے پر لگے ہیں۔

سیکریٹری نے کہا کہ 10 لاکھ ایکڑ پر درخت لگائے گئے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جنگلات سے متعلق اختیارات تو صوبوں کے پاس ہیں۔ وفاق کی تو کوئی سنتا ہی نہیں، جس پر سیکریٹری نے کہا کہ بلین ٹری سونامی میں صوبوں کے ساتھ 50 فیصد شراکت داری وفاقی کی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سیکریٹری جنگلات پنجاب اور سندھ بتائیں کہ 43 ملین درخت کہاں لگے ہیں۔ جس پر پنجاب کے سیکریٹری جنگلات آئے اور انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں 4 برسوں میں 46 کروڑ درخت لگائیں گے جبکہ اب تک 9 کروڑ درخت لگا چکے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے آئندہ سماعت پر سیکریٹری پلاننگ، چاروں صوبائی سیکریٹریز جنگلات کو بھی طلب کرلیا اور کیس کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کردی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube