Friday, January 15, 2021  | 30 Jamadilawal, 1442
ہوم   > پاکستان

دنیاکا تنہا ترین ہاتھی کاون کمبوڈیا پہنچ گیا

SAMAA | - Posted: Nov 30, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Nov 30, 2020 | Last Updated: 2 months ago

اے ایف پی

دنیا کا سب سے تنہا ہاتھی کاون پاکستان میں اپنا سفر تمام کرکے بحفاظت کمبوڈیا پہنچ گیا ہے۔ 35 سال پاکستان میں قیام کے بعد اب کاون کی منزل مشرقی ایشیا کا ملک کمبوڈیا ہے۔ جہاں وہ سیئم ریئپ صوبے میں بنی قیام گاہ میں رہے گا۔ اس موقع پر امریکی گلوکارہ شیئر بھی کاون کے ہمراہ کمبوڈیا پہنچیں۔

جانوروں کیلئے کام کرنے والی تنظیم فور پوز کے رکن عامر خالی کا کہنا تھا کہ طیارے میں کاون نے ایسے برتاؤ کیا، جیسے وہ اکثر طیارے میں آتا جاتا ہے۔ دوران پرواز کاون بالکل نہیں گھبرایا۔

عامر خالی نے مزید بتایا کہ دوران پرواز کاون نے کھانا بھی کھایا اور پرواز سے محظوظ ہوا۔ وہ کچھ دیر کیلئے سویا بھی اور کھڑا بھی رہا مگر وہ بلکل گھبرا نہیں رہا تھا۔

کمبوڈیا کے نائب وزیر ماحولیات کا کہنا ہے کہ نئے گھر میں کاون کے ساتھ دیگر 600 کے قریب ہاتھی بھی اس کے ساتھ ہونگے، جس کے بعد کاون کو مزید تنہا نہیں رہنا پڑے گا۔

حکام کے مطابق حفاظت کے پیش نظر کاون کو غنودگی میں طیارے کے ذریعے کمبوڈیا منتقل کیا گیا۔ اس سلسلے میں کاون کو ڈاٹ گن سے بے ہوش کرکے کنٹینر میں رکھا گیا، جس کے بعد یہ کنٹینر طیارے میں سوار کیا گیا۔

کاون کے ہمراہ ماہر غیر ملکی ڈاکٹرز سمیت ٹیکنیکل اسٹاف بھی موجود رہے۔ کاون کی طیارے میں منتقلی کے وقت چڑیا گھر میں وائلڈ لائف مینجمنٹ سمیت رینجرز بھی موجود رہی۔

کاون کو روسی ساختہ طیارے کے ذریعے کمبوڈیا منتقل کیا گیا۔

 عدالتی احکامات پر مرغزار چڑیا گھر اسلام آباد کے ہاتھی کاون کو کمبوڈیا بھیجنے کا حکم دیا گیا تھا۔

سول ايوی ايشن اتھارٹی کی جانب سے جاری نوٹی فکيشن کے مطابق کاون کی روانگی کیلئے ڈونرز کی جانب سے ڈی ایچ ایل کے خصوصی کارگو طیارہ کی اسلام آباد پہنچنے کی تصدیق کی گئی۔

اسلام آباد انٹر نيشنل ایئرپورٹ کے منیجر اور اے ایس ایف کی جانب سے بھی کاون کی منتقلی کیلئے تمام سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی گئیں۔ ہاتھی کی بيرون ملک روانگی کیلئے وزارت موسمیاتی تبدیلی نے بھی سرٹیفیکیٹ جاری کیا گیا تھا۔

کاون کی کمبوڈیا منتقلی کے دوران 2 غیر ملکی ڈاکٹرز اور ا8 ٹیکنیکل ماہرين کی ٹیم ہمراہ تھی۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہاتھی کاون کی منتقلی کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے دیا گیا ہے۔ عدالت میں مرغزار چڑیا گھر میں جانوروں کی ابتر صورت حال اور قدرتی ماحول سے دوری پر درخواست دائر کی گئی تھی۔

کاون کی کہانی

کاون سال 1981 میں سری لنکا میں پیدا ہوا۔ وہ صرف 4 سال کا تھا جب سری لنکا کی حکومت نے اسے پاکستان کے اس وقت کے حکمران جنرل ضیاء الحق کی درخواست پر پاکستان کو تحفے میں دیا۔

اون پاکستان آیا تو اسے اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر رکھا گیا جو کاون کا گھر بن گیا۔ کیونکہ کاون اسلام آباد کے چڑیا گھر کا پہلا اور واحد ہاتھی تھا تو لوگ اسے دور دور سے دیکھنے آتے اور بچے تو کاون پر چڑھ کر بڑے شوق سے تصویریں بناتے۔ یہاں تک کہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی اپنے بچپن میں کاون کی سواری کی تھی۔

کاون کی سہیلی

کاون 1981 سے سال 1991 تک اکیلا ہی زندگی بسر کرتا رہا، تاہم 1991 کی ایک صبح اس کی تنہائی کا خاتمہ کرگئی، جب بنگلادیش کی وزیرِ اعظم خالدہ ضیاء نے ایک ہتھنی پاکستان کو بطور تحفہ دی، جس کا نام سہیلی رکھا گیا۔

کاون کی طرح سہیلی بھی سری لنکا میں 1989 میں پیدا ہوئی اور وہاں اس کا نام مانیکا رکھا گیا تھا، لیکن جب وہ پاکستان آئی تو اس کا نام سہیلی رکھ دیا گیا۔

سال 2012 میں کاون کی سہیلی کے مر جانے کے بعد بے چارہ کاون ایک بار پھر اکیلا رہ گیا۔ اس کے بعد کاون کے برتاؤ میں تبدیلی آںے لگی اور وہ اپنا سر درختوں اور دیواروں سے مارتا۔

کاون کیساتھ کیا ہوا؟

سال 1985 سے چڑیا گھر میں موجود نر ہاتھی ’’کاون‘‘ تنہائی کے باعث شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھا اور گزشتہ کئی سال سے اس کے تحفظ کیلئے انٹرنیشنل اور ملکی سطح پر مہم چلائی جاتی رہی تھیں۔

کاون کی کہانی سال 2015 میں پاکستان آنے والی بچی ثمر خان کی بدولت دنیا کے سامنے آئی، جب وہ اپنی والدہ کے ہمراہ اسلام آباد چڑیا گھر گئی اور وہاں اس نے کاون کو کسی ذہنی الجھن میں مبتلا دیکھا۔ دوسرے تو کاون کی ذہنی حالت کا اندازہ نہ لگا سکے تاہم ثمر جو جانوروں کی ڈاکٹر بن رہی تھی، اسے کاون کا مسئلہ سمجھ آگیا اور واپس امریکا آکر ثمر نے آئن لائن پٹیشن کے ذریعے فری کاون کی مہم کا آغاز کیا۔

مرغزار کے چڑیا گھر میں موجود 38 سالہ کاون کے حق میں فیصلہ آنے میں 5 سال کا عرصہ لگا۔

دوسری جانب کاون کے حق میں آواز اٹھانے والوں میں پیش پیش امریکی گلوکارہ شیر نے بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کئی ٹویٹس کیں۔ شیئر کا کہنا تھا کہ وہ عدالتی فیصلے سے بہت خوش ہیں اور پاکستان آکر حکومتِ پاکستان کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہیں۔ اور اس سلسلے میں وہ پاکستان بھی آئیں اور وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی۔

اس پورے عمل میں فری دی وائلڈ نامی عالمی این جی اوکے سربراہ مارک کون کاون کی آزادی کیلئے کوشاں رہے جو 2017 میں پاکستان بھی آئے تھے۔

 

کمبوڈیا آمد

کمبو ڈیا وائلڈ لائف پارک کاون کو وصول کرنے کیلئے آمدگی ظاہر کی تھی، جس کے بعد اسے وہاں منتقل کرنے کی تیاریاں کی گئیں۔ اس کی منتقلی کے تمام اخراجات فری دی وائلڈ نے برداشت کیے، جب کہ بدلے میں چڑیا گھر کی انتظامیہ کو عالمی معیار کی ٹریننگ دی جائے گی۔

کاون کے حق میں مظاہرے

جانوروں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے ادارے اور اسلام آباد کے شہری تقریبا 6 ماہ چڑیا گھر کے سامنے مظاہرے میں کاون کو محفوظ پناہ گاہ بھیجنے کی درخواست کرتے رہے۔ اس کے بعد گزشتہ 5 برسوں کے دوران بھی مختلف اوقات میں کاون اور دیگر جانوروں کے لیے آواز اٹھائی جاتی رہی ۔

کاون کیلئے سب سے پہلے کس نے آواز اٹھائی؟

کاون کیلئے اس جدوجہد کا بنیاد ایک آن لائن پٹیشن بنی تھی جو 2015 میں پاکستانی نژاد امریکی شہری ثمرخان نے دائرکی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube