مشرف کیس: توہین آمیز ریمارکس پر حکومتی ٹیم عدالت طلب

SAMAA | - Posted: Nov 26, 2020 | Last Updated: 7 months ago
SAMAA |
Posted: Nov 26, 2020 | Last Updated: 7 months ago

پشاور ہائیکورٹ نے پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کے فیصلے سے متعلق توہین آمیز بیانات پر وفاقی وزراء اور وزیراعظم کے معاونین کو پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اور خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس وقار احمد سیٹھ نے پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ سنایا تو حکومتی ٹیم نے طویل پریس کانفرنس کی تھی جس میں فردوس عاشق اعوان، وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم اور معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر شریک ہوئے تھے۔

اس پریس کانفرنس کے بعد سپریم کورٹ میں درخواست دائر ہوئی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ حکومتی ٹیم نے عدلیہ اور معزز جج کی توہین کی ہے۔ جمعرات کو اس درخواست کی سماعت جسٹس روح الامین اور جسٹس اعجاز الحسن نے کی۔

سماعت کے موقع پر جسٹس روح الامین نے ریمارکس دیے کہ جنہوں نے توہین عدالت کی ہے وہ آئندہ سماعت پر خود عدالت میں پیش ہوجائیں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل عامر جاوید نے عدالت سے استدعا کی کہ فریقین کی طرف سے وہ پیش ہوکر دلائل دیں گے مگر جسٹس روح الامین نے استدعا مسترد کرتے ہوئے حکم دیا کہ توہین عدالت کرنے والے خود پیش ہوجائیں تو پھر ان کے ساتھ آپ کو بھی سنیں گے۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر وفاقی وزراء کو خود پیش ہونے کا حکم دے دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

گذشتہ برس 17 دسمبر کو خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔ خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس وقار سیٹھ تھے جبکہ مزید 2 ججز بھی بنچ کا حصہ تھے۔

فیصلے میں اپنی رائے دیتے ہوئے جسٹس وقار سیٹھ نے لکھا تھا کہ پھانسی سے قبل اگر پرویز مشرف فوت ہوجائیں تو لاش کو ڈی چوک پر لاکر 3 دن تک لٹکایا جائے۔

اس فیصلے کے بعد وفاقی وزرا اور معاونین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے جسٹس وقار احمد سیٹھ کی ’ذہنی حالت‘ پر سوالات اٹھائے تھے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube