Saturday, October 16, 2021  | 9 Rabiulawal, 1443

گلگلت،الیکشن میں دھاندلی کیخلاف ہنگامہ آرائی، املاک نذرآتش

SAMAA | - Posted: Nov 23, 2020 | Last Updated: 11 months ago
SAMAA |
Posted: Nov 23, 2020 | Last Updated: 11 months ago

گاڑیوں، دفاتر کو آگ لگادی

گلگلت بلتستان کے حالیہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف جاری احتجاج پیر کو پرتشدد صورت اختیار کرگیا۔ مظاہرین اور پولیس کے مابین تصادم کے بعد مظاہرین نے سرکاری گاڑیوں کو آگ لگادی۔ متعدد گاڑیاں جل گئیں۔ فائر بریگیڈ نے آگ پر قابو پالیا جبکہ شہر میں فوج بھی تعینات ہے۔

گلگت بلتستان کے الیکشن سے قبل اور بعد میں اپوزیشن جماعتیں پری پول اور پولنگ کے دوران دھاندلی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے کارکنان نے مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے جبکہ ایک حلقے میں تحریک انصاف کے کارکنان نے بھی احتجاج کرتے ہوئے قراقرم ہائی وے بند کردی تھی۔

گلگت شہر کے حلقہ 2 کے انتخابی نتائج میں مبینہ دھاندلی کے خلاف الیکشن کمیشن کے باہر ایک ہفتے سے دھرنا جاری تھا جس سے بلاول بھٹو نے بھی خطاب کیا تھا۔ یہاں سے الیکشن کی رات پیپلز پارٹی کا امیدوار جیت گیا تھا مگر اگلی صبح تحریک انصاف کے امیدوار کے ووٹ زیادہ نکلے۔

اتوار کی صبح الیکشن کمیشن کے باہر بیٹھے مظاہرین کو پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے منشتر کردیا تو انہوں نے وزیراعلیٰ سکریٹریٹ کے بار دھرنا دے دیا۔ پولیس نے وہاں مظاہرین کو ڈرانے کیلئے ہوائی فائرنگ کی تو مظاہرین مشتعل ہوگئے اور ایک سرکاری گاڑی کو آگ لگادی۔

یہاں پولیس تشدد کے بعد احتجاج کا سلسلہ شہر بھر میں پھیل گیا اور مظاہرین نے مختلف مقامات پر تین سرکاری گاڑیوں اور محکمہ جنگلات کے دفتر کو آگ لگا دی۔

محکمہ داخلہ نے صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے شہر میں پولیس کی اضافی نفری تعینات کی ہے۔ پولیس نے بتایا ہے کہ چار سرکاری گاڑیوں سمیت چیف کنزرویٹر فارسٹ کے دفتر کو جلانے پر 20 نامعلوم افراد کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے اور ملزموں کی نشاندہی سی سی ٹی وی کیمروں سے کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

گلگت بلستستان میں انتخابات کے بعد جاری مظاہروں اور ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کیلئے فوج بھی طلب کی گئی ہے۔ گلگت شہر اور چلاس میں اس وقت پاک فوج تعینات ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube