Sunday, January 16, 2022  | 12 Jamadilakhir, 1443

بینک منیجر کاقاتل سیکیورٹی گارڈ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

SAMAA | - Posted: Nov 6, 2020 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Nov 6, 2020 | Last Updated: 1 year ago

خوشاب میں بینک منیجر کو قتل کرکے اس پر توہین رسالت کا الزام عائد کرنے والے سیکیورٹی گارڈ کو مقامی عدالت نے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

پنجاب کے ضلع خوشاب کی تحصیل قائد آباد میں 4 نومبر کو بینک کے سیکیورٹی گارڈ احمد نواز نے فائرنگ کرکے منیجر عمران حنیف کو قتل کردیا تھا۔

ملزم احمد نواز کو بروز جمعہ سول جج قاٸد آباد عثمان ریاض کی عدالت میں یش کیا گیا۔ عدالت نے ملزم کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر ڈسٹرکٹ جیل شاہ پور منتقل کرنے کا حکم دیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے سیکیورٹی اور نقص امن کے خدشات کے تحت ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا نہیں کی۔ وقوع کے روز بھی ملزم کے حامی ہجوم نے تھانے پر حملہ کردیا تھا۔

علماء نے مقتول کو بے گناہ قرار دے دیا

مقتول عمران حنیف کو 5 نومبر کو سپردخاک کردیا گیا۔ ان کی نماز جنازہ میں مقامی علماء سمیت عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ نماز جنازہ کے شرکاء نے ہاتھ اٹھاکر گواہی دی کہ یہ ناحق قتل ہے اور مقتول بے گناہ ہے۔

عمران حنیف کی نماز جنازہ مقامی عالم دین مولانا اظہارالحسن نے پڑھائی۔ اس موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مولانا اظہارالحسن نے کہا کہ ’جب یہ معاملہ (قتل) ہوگیا اور ارد گرد لوگ اکھٹے ہوگئے۔ لوگوں نے تو یہ سمجھا کہ ہوسکتا ہے کہ اس نے حضور کی شان میں گستاخی کی ہو اور سیکیورٹی گارڈ نے غازی علم الدین شہید جیسا کام کیا ہے۔ اس لیے لوگوں نے اس کے ہاتھ چومنا شروع کردیے اور نعرے بازی کرنے لگے۔‘

ویڈیو دیکھیں:خوشاب بینک مینیجر سپردخاک، علماء نے قتل ناحق قرار دیدیا

مولانا اظہارالحسن نے کہا کہ ملزم نے قتل کرنے کے بعد اس کو قادیانی قرار دینے کی کوشش کی مگر ’قائدآباد کے عوام اور مساجد کے ائمہ گواہی دے رہے ہیں کہ وہ صحیح العقیدہ مسلمان تھا۔ اس نے میری امامت میں کئی مرتبہ نماز ادا کی اور اس کے گھر میں بچیوں کو قرآن پڑھایا جاتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے اس کو گستاخی کا معاملہ سمجھا تھا ’اب ان لوگوں کو معلوم ہوجانا چاہیے کہ یہ ایسا معاملہ نہیں تھا۔ آپ اپنے ہاتھ بلند کرکے بتا دیجئے کہ یہ نا حق قتل ہے۔‘

اس پر جنازے میں شریک ہزاروں لوگوں نے ہاتھ بلند کرکے مقتول کی بے گناہی کی گواہی دی اور نماز جنازہ کے بعد اشکبار آنکھوں کے ساتھ مقتول کو سپرد خاک کردیا۔

کب کیا ہوا

واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے بینک منیجر عمران حنیف اپنی جگہ بیٹھا کام میں مصروف ہے۔ اس دوران حملہ آور احمد نواز اس کے پاس آتا ہے اور سامنے کسٹمرز کے لئے مختص بینچ پر بیٹھتا ہے۔ ایک اور گارڈ حنیف کی میز کے ساتھ آکر کھڑا ہوجاتا ہے۔ پھر اچانک، نواز اٹھ کھڑا ہوا اور حنیف پر فائر کھول دیا۔ دوسرا گارڈ نواز پر قابو پانے کے لئے آگے بڑھا مگر تب تک وہ تین گولیاں چلا چکا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:توہین رسالت کاالزام: بینک کے گارڈ نے منیجر کوقتل کردیا

فائرنگ کی آواز سن کر باہر کافی لوگ جمع ہوئے اور نواز کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا جبکہ حنیف کو زخمی حالت میں اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ دم توڑ گیا۔

توہین رسالت کا الزام

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر طارق ولایت کے مطابق پولیس کی حراست میں آتے ہی ’نواز نے دعویٰ کیا کہ حنیف کو گولی اس لیے مار دی کہ وہ ایک احمدی تھا اور اس نے حضرت محمد (ص) کی توہین کی تھی مگر تفتیش سے قبل اس کی تصدیق نہیں کی جاسکتی۔‘

خوشاب کے مذہبی رہنماؤں نے بھی معاملے کی تحقیقات کیلئے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

مقتول کا پس منظر

حنیف کے بھائی نے 4 نومبر کو اقدام قتل کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرواتے ہوئے کہا تھا کہ سیکیورٹی گارڈ احمد نواز پہلے بھی اکثر حنیف سے الجھتا تھا کیوں کہ ملزم ڈیوٹی پر دیر سے آیا کرتا تھا جس پر حنیف اسے ڈانٹ پلاتا تھا۔

حنیف کے چچا نے سماء ٹی وی کو بتایا کہ نواز نے ذاتی رنجش پر حنیف کو قتل کیا اور اب خود کو بچانے کے لئے توہین رسالت کے الزامات لگا رہا ہے۔ میرے بھتیجے نے کبھی نبی اکرم (ص) کی توہین نہیں کی۔ ہمارا احمدیوں سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔

کچھ دن پہلے 26 اکتوبر کو مقتول حنیف نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر پروفائل تصویر تبدیل کرتے ہوئے اس کے ذریعے فرانس میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں کی مذمت کی اور فرانس کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی حمایت کی تھی۔

حنیف نے کی تصویر کے ساتھ لکھا ہے کہ میں محمد (ص) سے محبت کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ بھی وہ اکثر اپنے فیس بک ٹائم لائن پر مذہبی پوسٹس شیئر کرتا تھا۔

کیا اسلام میں دوسروں کو کافر قرار دینا جائز ہے

ٹویٹر پر ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ حنیف کے قتل کے بعد لوگوں کا ایک ہجوم نواز کی حمایت میں نکل آیا۔ یہ ہجوم قائد آباد تھانے کے باہر جمع ہوا اور نواز کو رہا کرنے کا مطالبہ کرتا رہا جس پر سیکیورٹی کے لئے میانوالی سے اضافی پولیس طلب کی گئی۔

جس وقت یہ سب کچھ ہورہا تھا، اس دوران خوشاب کے ڈی پی او طارق ولایت شہر سے باہر تھے۔ اس لیے اعلیٰ حکام نے صورتحال پر قابو پانے کے لئے میانوالی کے ڈی پی او مستنصر فیروز اعوان کو خوشاب بھیج دیا۔ انہوں نے قائد آباد تھانے پہنچ کر ہجوم کو یقین دلایا کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں گی۔

توہین رسالت کے معاملے پر پاکستان کافی حساس ہے۔ اکثر لوگ ان ملزموں کی حمایت کے لئے نکلتے ہیں جو دوسروں پر الزام لگا کر قتل کرتے ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز کا کہنا ہے کہ ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ لوگ اس معاملے میں اسلام کی تعلیمات کو نہیں سمجھتے۔

اسلامی نظریاتی کونسل ایک آئینی ادارہ ہے جو پارلیمنٹ میں ہونے والی قانون سازی کو شرعی قوانین کے مطابق بنانے کے لیے سفارشات تیار کرتا ہے۔

قبلہ ایاز نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ اسلام میں کوئی بھی شخص دوسرے شخص کو کافر قرار نہیں دے سکتا۔ اس سے قبل جنوری 2018 میں اسلام آباد میں منعقدہ پیغام پاکستان کانفرنس میں تمام مسالک کے علما نے اس پر اتفاق کیا تھا کہ کسی گروہ کو یہ اختیار نہیں کہ وہ قانون اپنے ہاتھ میں لے۔ لوگوں کو کافر قرار دے یا نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے نام پر قتل شروع کردے۔

اس معاہدے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شہری کو قانون کے مطابق سزا دینے کا اختیار صرف ریاست اور متعلقہ اداروں کا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube