Monday, January 18, 2021  | 3 Jamadilakhir, 1442
ہوم   > پاکستان

فوجی قیادت کا نام لینا نوازشریف کاذاتی فیصلہ تھا،بلاول

SAMAA | - Posted: Nov 6, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Nov 6, 2020 | Last Updated: 2 months ago

فائل فوٹو

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی جانب سے فوجی قیادت کا نام لینا ان کا ذاتی فیصلہ تھا تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ میاں صاحب نے بغیر ثبوت کے کسی کا نام نہیں لیا ہو گا اور اور ایسی باتیں ثبوتوں کی بنیاد پر ہی کی جانی چاہئیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بریڈش براڈکاسٹنگ کارپوریشن ( بی بی سی) کو دیئے گئے انٹرویو میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی جانب سے گوجرانوالہ جلسے کے دوران پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید پر براہ راست انتخابات میں دھاندلی اور عمران خان کو برسرِاقتدار لانے کے الزامات لگائے، جس پر انہیں دھچکا لگا، ہمیں انتظار ہے کہ نواز شریف کب ثبوت پیش کریں گے۔‘

بی بی سی نے ان سے یہ بھی پوچھا کہ پی ڈی ایم کی تشکیل کے وقت ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس اور دیگر اجلاسوں میں کیا مسلم لیگ نواز نے پاکستانی فوج کی قیادت یا خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ کا نام لیا تھا، یا اس بارے میں کوئی اشارہ دیا تھا؟۔ اس پر بلاول بھٹو زرداری نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’پی ڈی ایم کے ایجنڈے کی تیاری کے وقت نواز لیگ نے جنرل باجوہ یا جنرل فیض کا نام نہیں لیا تھا۔‘ انہوں نے مزید بتاتے ہوئے کہا کہ ’وہاں (اے پی سی میں) یہ بحث ضرور ہوئی تھی کہ الزام صرف ایک ادارے پر لگانا چاہیے یا پوری اسٹیبلیشمنٹ پر لگانا چاہیے اور اس پر اتفاق ہوا تھا کہ کسی ایک ادارے کا نہیں بلکہ اسٹیبلیشمنٹ کہا جائے گا۔

بلاول نے کہا کہ گوجرانوالہ جلسے میں جب نواز شریف نے براہ راست نام لیے تو یہ میرے لیے ایک دھچکا تھا کیونکہ عام طور پر ہم جلسوں میں اس طرح کی بات نہیں کرتے، مگر میاں نواز شریف کی اپنی جماعت ہے اور میں یہ کنٹرول نہیں کر سکتا کہ وہ کیسے بات کرتے ہیں اور نہ ہی وہ کنٹرول کر سکتے ہیں کہ میں کیسے بات کرتا ہوں۔

بی بی سی نے ان سے پوچھا کہ کیا اداروں کے سربراہان (جنرل قمر جاوید باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید) کے نام لینے سے اپوزیشن جماعتوں کا پلیٹ فارم یہ سمجھتا ہے کہ اس سے اتنا دباؤ بڑھ جائے گا کہ یہ سربراہان اپنے عہدوں سے دستبردار ہو جائیں گے، بلاول بھٹو نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا ہرگز یہ مطالبہ نہیں ہے کہ فوجی قیادت عہدے سے دستبردار ہو جائے۔

اپنے انٹرویو میں بلاول نے اس بات کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ واضح کر دوں کہ یہ نہ تو ہماری قرارداد میں مطالبہ ہے نہ ہی یہ ہماری پوزیشن ہے۔ جہاں تک بات نام لینے کی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اور یقینا ایسا ہی ہوا گا کہ میاں صاحب نے بغیر ثبوت کے کسی کا نام نہیں لیا ہو گا اور اس قسم کے الزامات ثبوتوں کی بنیاد پر ہی آگے آنے چاہییں۔ میں یہ طریقہ کار خود اپنی جماعت کے لیے نہیں اپناتا کہ میں جلسوں میں اس (یعنی براہِ راست الزام لگانا) کو بیان کرتا۔ مگر میاں صاحب کا یہ حق ہے کہ وہ اس قسم کا موقف لینا چاہیں تو ضرور لیں۔‘

پی پی چیئرمین نے کہا کہ نواز شریف اپنے طریقے سے بات کر سکتے ہیں، یہ ان کا حق ہے، جب کہ میں اپنے طریقے سے بات کروں گا، ہم تین نسلوں سے یہ جدوجہد کر رہے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ کیسے لڑا جاتا ہے۔ پہلے دن سے اس پر کام کر رہا ہوں، اور آئندہ بھی بھاگوں گا نہ ہی رکوں گا، بلکہ اس مقصد پر کام جاری رکھوں گا۔ وزیراعظم عمران خان اداروں کو اپنی ’ٹائیگر فورس‘ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ادارے بدنام ہوتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اور ان کی جماعت پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے ایجنڈے اور قرارداد کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

آئی جی سندھ اور کیپٹن صفدر کا واقعہ

کراچی میں 18 اکتوبر کو پی ڈی ایم جلسے کے بعد رونما ہونے والے واقعہ پر بلاول بھٹو نے کہا کہ اس معاملے پر ان کا آرمی چیف سے دوبارہ رابطہ نہیں ہوا۔ ’مگر یہ علم ہے کہ اس معاملے پر انکوائری چل رہی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس پر تحقیقات مکمل کی جائیں گی اور قصور وار افراد کا تعین کرکے انھیں سزا بھی دی جائے گی، میں اس وقت صبر سے انتظار کر رہا ہوں کہ مجھے اس انکوائری سے متعلق آگاہ کیا جائے۔‘

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube