Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

خوشاب بینک مینیجر سپردخاک، علماء نے قتل ناحق قرار دیدیا

SAMAA | - Posted: Nov 5, 2020 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Nov 5, 2020 | Last Updated: 1 year ago

پنجاب کے ضلع خوشاب میں بینک کے سیکیورٹی گارڈ نے گزشتہ روز توہین رسالت کا الزام لگا کر فائرنگ کرکے منیجر کو قتل کردیا تھا۔ آج متقول کو سپردخاک کردیا گیا جس کی نماز جنازہ میں علماء سمیت عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ نماز جنازہ کے شرکاء نے ہاتھ اٹھاکر گواہی دی کہ یہ ناحق قتل ہے اور مقتول بے گناہ ہے۔

مقتول عمران حنیف کی نماز جنازہ مقامی عالم دین مولانا اظہارالحسن نے پڑھائی۔ اس موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مولانا اظہارالحسن نے کہا کہ ’جب یہ معاملہ (قتل) ہوگیا اور ارد گرد لوگ اکھٹے ہوگئے۔ لوگوں نے تو یہ سمجھا کہ ہوسکتا ہے کہ اس نے حضور کی شان میں گستاخی کی ہو اور سیکیورٹی گارڈ نے غازی علم الدین شہید جیسا کام کیا ہے۔ اس لیے لوگوں نے اس کے ہاتھ چومنا شروع کردیے اور نعرے بازی کرنے لگے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اب ان لوگوں کو معلوم ہوجانا چاہیے کہ یہ ایسا معاملہ نہیں تھا۔ آپ اپنے ہاتھ بلند کرکے بتا دیجئے کہ یہ نا حق قتل ہے۔‘

جنازے میں شریک ہزاروں لوگوں نے ہاتھ بلند کرکے مقتول کی بے گناہی کی گواہی دی اور نماز جنازہ کے بعد اشکبار آنکھوں کے ساتھ مقتول کو سپرد خاک کردیا۔

یہ بھی پڑھیں:توہین رسالت کاالزام: بینک کے گارڈ نے منیجر کوقتل کردیا

گزشتہ روز پنجاب کے ضلع خوشاب میں بینک کے سیکیورٹی گارڈ احمد نواز نے توہین رسالت کا الزام لگا کر فائرنگ کرکے منیجر عمران حنیف کو قتل کردیا تھا۔

واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے حنیف اپنی جگہ بیٹھا کام میں مصروف ہے۔ اس دوران حملہ آور احمد نواز اس کے پاس آتا ہے اور سامنے کسٹمرز کے لئے مختص بینچ پر بیٹھتا ہے۔ ایک اور گارڈ حنیف کی میز کے ساتھ آکر کھڑا ہوجاتا ہے۔ پھر اچانک، نواز اٹھ کھڑا ہوا اور حنیف پر فائر کھول دیا۔ دوسرا گارڈ نواز پر قابو پانے کے لئے آگے بڑھا مگر تب تک وہ تین گولیاں چلا چکا تھا۔

فائرنگ کی آواز سن کر باہر کافی لوگ جمع ہوئے اور نواز کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا۔ حنیف کو زخمی حالت میں اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ دم توڑ گیا۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر طارق ولایت کے مطابق ’نواز نے دعویٰ کیا کہ حنیف کو گولی اس لیے مار دی کیونکہ وہ ایک احمدی تھا اور اس نے حضرت محمد (ص) کی توہین کی تھی مگر تفتیش سے قبل اس کی تصدیق نہیں کی جاسکتی۔ خوشاب کے مذہبی رہنماؤں نے معاملے کی تحقیقات پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

حنیف کے بھائی نے گزشتہ روز اقدام قتل کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرواتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی گارڈ احمد نواز پہلے بھی کئی مرتبہ حنیف سے الجھ گیا تھا کیوں کہ ملزم ڈیوٹی پر دیر سے آیا کرتا تھا جس پر حنیف نے اسے ڈانٹ پلاتا تھا۔

حنیف کے چچا نے سماء ٹی وی کو بتایا کہ نواز نے ذاتی رنجش پر حنیف کو قتل کیا اور اب اب اپنی حفاظت کے لئے توہین رسالت کے الزامات لگا رہا ہے۔ میرے بھتیجے نے کبھی نبی اکرم (ص) کی توہین نہیں کی۔ ہمارا احمدیوں سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔

حملے سے کچھ دن پہلے 26 اکتوبر کو مقتول حنیف نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر پروفائل تصویر تبدیل کرتے ہوئے اس کے ذریعے فرانس میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں کی مذمت کی اور فرانس کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی حمایت کی تھی۔ حنیف نے کی تصویر کے ساتھ لکھا ہے کہ میں محمد (ص) سے محبت کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ بھی وہ اکثر اپنے فیس بک ٹائم لائن پر مذہبی پوسٹس شیئر کرتا تھا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube