Sunday, January 16, 2022  | 12 Jamadilakhir, 1443

توہین رسالت کاالزام: بینک کے گارڈ نے منیجر کوقتل کردیا

SAMAA | - Posted: Nov 5, 2020 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Nov 5, 2020 | Last Updated: 1 year ago

پنجاب کے ضلع خوشاب میں بینک کے سیکیورٹی گارڈ نے توہین رسالت کا الزام لگا کر فائرنگ کرکے منیجر کو قتل کر دیا۔

مقتول کی شناخت ملک عمران حنیف کے نام سے ہوئی ہے۔ وہ ضلع خوشاب کی تحصیل قائد آباد میں ایک بینک کا منیجر تھا جبکہ ملزم احمد نواز اسی بینک میں سیکیورٹی گارڈ تعینات تھا۔

واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ حنیف اپنی جگہ بیٹھا کام میں مصروف ہے۔ اس دوران حملہ آور احمد نواز اس کے پاس آتا ہے اور سامنے کسٹمرز کے لئے مختص بینچ پر بیٹھتا ہے۔ ایک اور گارڈ حنیف کی میز کے ساتھ آکر کھڑا ہوجاتا ہے۔ پھر اچانک نواز اٹھ کھڑا ہوا اور حنیف پر فائر کھول دیا۔ دوسرا گارڈ نواز پر قابو پانے کے لئے آگے بڑھا مگر تب تک وہ تین گولیاں چلا چکا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:خوشاب بینک مینیجر سپردخاک، علماء نے قتل ناحق قرار دیدیا

فائرنگ کی آواز سن کر باہر کافی لوگ جمع ہوئے اور نواز کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا۔ حنیف کو زخمی حالت میں اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ دم توڑ گیا۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر طارق ولایت کے مطابق ’نواز نے دعویٰ کیا کہ حنیف کو گولی اس لیے مار دی کیونکہ وہ احمدی تھا اور اس نے حضرت محمد (ص) کی توہین کی تھی مگر تفتیش سے قبل اس کی تصدیق نہیں کی جاسکتی۔‘ خوشاب کے مذہبی رہنماؤں نے معاملے کی تحقیقات کیلئے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

حنیف کے بھائی نے گزشتہ روز اقدام قتل کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرواتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی گارڈ احمد نواز پہلے بھی کئی مرتبہ حنیف سے الجھ گیا تھا کیوں کہ ملزم ڈیوٹی پر دیر سے آیا کرتا تھا جس پر حنیف نے اسے ڈانٹ پلاتا تھا۔ بعد میں جب حنیف اسپتال میں چل بسا تو پولیس نے ایف آئی آر میں قتل کی دفعات شامل کردیں۔

حنیف کے چچا نے سماء ٹی وی کو بتایا کہ نواز نے ذاتی رنجش پر حنیف کو قتل کیا اور اب خود کو بچانے کے لئے توہین رسالت کے الزامات لگا رہا ہے۔ میرے بھتیجے نے کبھی نبی اکرم (ص) کی توہین نہیں کی۔ ہمارا احمدیوں سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔

حملے سے کچھ دن پہلے 26 اکتوبر کو مقتول حنیف نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر پروفائل تصویر تبدیل کرتے ہوئے اس کے ذریعے فرانس میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں کی مذمت کی اور فرانس کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی حمایت کی تھی۔ حنیف نے کی تصویر کے ساتھ لکھا ہے کہ میں محمد (ص) سے محبت کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ بھی وہ اکثر اپنے فیس بک ٹائم لائن پر مذہبی پوسٹس شیئر کرتا تھا۔

کیا اسلام میں دوسروں کو کافر قرار دینا جائز ہے

ٹویٹر پر ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ حنیف کے قتل کے بعد لوگوں کا ایک ہجوم نواز کی حمایت میں نکل آیا۔ یہ ہجوم قائد آباد تھانے کے باہر جمع ہوا اور نواز کو رہا کرنے کا مطالبہ کرتا رہا جس پر سیکیورٹی کے لئے میانوالی سے اضافی پولیس طلب کی گئی۔

جس وقت یہ سب کچھ ہورہا تھا، اس دوران خوشاب کے ڈی پی او طارق ولایت شہر سے باہر تھے۔ اس لیے اعلیٰ حکام نے صورتحال پر قابو پانے کے لئے میانوالی کے ڈی پی او مستنصر فیروز اعوان کو خوشاب بھیج دیا۔ انہوں نے قائد آباد تھانے پہنچ کر ہجوم کو یقین دلایا کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں گی۔

توہین رسالت کے معاملے پر پاکستان کافی حساس ہے۔ اکثر لوگ ان ملزموں کی حمایت کے لئے نکلتے ہیں جو دوسروں پر الزام لگا کر قتل کرتے ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز کا کہنا ہے کہ ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ لوگ اس معاملے میں اسلام کی تعلیمات کو نہیں سمجھتے۔

اسلامی نظریاتی کونسل ایک آئینی ادارہ ہے جو پارلیمنٹ میں ہونے والی قانون سازی کو شرعی قوانین کے مطابق بنانے کے لیے سفارشات تیار کرتا ہے۔

قبلہ ایاز نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ اسلام میں کوئی بھی شخص دوسرے شخص کو کافر قرار نہیں دے سکتا۔ اس سے قبل جنوری 2018 میں اسلام آباد میں منعقدہ پیغام پاکستان کانفرنس میں تمام مسالک کے علما نے اس پر اتفاق کیا تھا کہ کسی گروہ کو یہ اختیار نہیں کہ وہ قانون اپنے ہاتھ میں لے۔ لوگوں کو کافر قرار دے یا نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے نام پر قتل شروع کردے۔

اس معاہدے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شہری کو قانون کے مطابق سزا دینے کا اختیار صرف ریاست اور متعلقہ اداروں کا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube