Thursday, December 3, 2020  | 16 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > پاکستان

ایازصادق کا بیان تاریخ مسخ کرنے کی کوشش ہے،پاک فوج

SAMAA | - Posted: Oct 29, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Oct 29, 2020 | Last Updated: 1 month ago

پاکستان آرمی کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ کل ایک بیان سے پاکستان کی قومی سلامتی سے متعلق تاریخ مسخ کرنے کی کوشش کی گئی۔ بھارتی جنگی قیدی کی رہائی کا فیصلہ جنیوا کنونشن کے تحت کیا اور اس فیصلے کو پوری دنیا سے سراہا۔

گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایاز صادق نے مراد سعید کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ابھے نندن کی بات کرتے ہیں مگر جب وہ پکڑا گیا تو اجلاس میں وزیرخارجہ کی ٹانگیں کانپ رہی تھی۔ اپوزیشن کو بتایا گیا کہ اس کو جانے نہ دیا گیا تو بھارت رات 9 بجے حملہ کردے گا۔

پاکستان آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے جمعرات کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وہ ریکارڈ کی درستگی کیلئے ون پوائنٹ ایجنڈے پر بات کرنے آئے ہیں۔ اس ون پوائنٹ ایجنڈے کی پریس کانفرنس کے آخر میں مگر انہوں نے ایک سوال کا جواب بھی دیا اور مزید سوالات لینے سے انکار کردیا۔

میجر جنرل بابر افتخار کی پریس کانفرنس کا مکمل متن درج ذیل ہے۔

’کل ایک ایسا بیان دیا گیا جس میں قومی سلامتی سے متعلق تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی۔ پلوامہ واقعہ کے بعد 26 فروری 2019 کو ہندوستان نے تمام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف جارحیت کی۔ جس میں انہیں نہ صرف منہ کی کھانی پڑی بلکہ پوری دنیا میں ہزیمت اٹھائی۔ افواج پاکستان کے چوکنا اور بروقت ردعمل نے دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دیا۔ دشمن کے جہاز جو باردو پاکستان کے عوام پر گرانے آئے تھے، ہمارے شاہینوں کو دیکھتے ہی بدحواسی میں خالی پہاڑوں میں پھینک کر چلے گئے۔‘

’اس کے جواب میں افواج پاکستان نے قوم کے عزم و ہمت کے عین مطابق دشمن کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے میں پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت یکجا تھی۔ پاکستان نے اعلانیہ ہندوستان کو دن کی روشنی میں جواب دیا۔ ہم نے نہ صرف بھرپور جواب دیا بلکہ دشمن کے دو جنگی جہاز بھی مارگرائے۔ ونگ کمانڈر ابھے نندن کو گرفتار کیا گیا اور دشمن اس ساری کارروائی کے دوران اتنا خوفزدہ ہوا کہ بدحواسی اور افراتفریح میں اپنا ہی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا۔ اللہ کی نصرت سے ہمیں ہندوستان کے خلاف واضح فتح حاصل ہوئی۔‘

’اس کامیابی سے نہ صرف ہندوستان کی کھوکھلی قوت کی قلعی دنیا کے سامنے کھلی بلکہ پوری پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند ہوا۔ اور مسلح افواج سرخرو ہوئی۔ مسلح افوا کو نہ صرف دنیا میں تسلیم کیا گیا بلکہ ہندوستان کی قیادت نے بھی اس شککست کا جواب رافیل طیاروں کی عدم دستیابی پر ڈال دیا۔ حکومت پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر امن کو ایک اور موقع دیتے ہوئے بھارتی جنگی قیدی ابھے نندن کو بھی رہا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس ذمہ دارانہ فیصلے کو، جوا جنیوا کنونشن کے تحت تھا، پوری دنیا نے سراہا۔‘

’میں ایک مرتبہ پھر تاریخ کی درستگی کے لیے واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان نے پہلے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور یہ فیصلہ تمام جنگی آپشنز کو مدنظر رکھتے ہوئے پوزیشن آف اسٹرینتھ سے کیا گیا۔ پاکستان کی قیادت اور مسلح افواج ہر طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری تیار تیار تھی۔ ہم نے انہیں ناکوں چنے چبوائے اور وہ ابھی تک اس زخم کو سہلا رہے ہیں۔‘

’ہندوستان کے جنگی قیدی ابھے نندن کی رہائی کو ایک ذمہ دار ریاست کے بالغ لنظری پر مبنی ردعمل کے علاوہ کسی اور چیز سے جوڑنا انتہائی افسوسناک اور گمراہ کن ہے۔ یہ دراصل پاکستانی قوم کی ہندوستان کے اوپر واضح فتح کو متنازع بنانے کے مترادف ہے اور یہ چیز میرے خیال میں کسی بھی پاکستانی کے لیے قابل قبول نہیں۔ ایسے بیانیہ کے براہ راست قومی سلامتی پر اثرات مرتب ہوتے ہیں اور دشمن انفارمیشن ڈومین میں ان چیزوں کا بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اس کی جھلک آج آپ سب انڈٰین میڈیا پر دیکھ سکتے ہیں۔ یہی بیانیہ ہندوستان کی شکست اور ہزیمت کو کم کرنے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ ان حالات میں جب دشمن قوتیں پاکستان پر ہائبرڈ وار مسلط کرچکی ہیں، ہم سب کو انتہائی ذمہ داری سے آگے بڑھنا ہوگا۔‘

’افواج پاکستان خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے۔ اندرونی و بیرونی خطرات سے نہ صرف آگاہ ہیں بلکہ تمام چیلنجر کا مقابلہ کرنے کیلئے ہر طرح سے تیار ہیں۔ قوم کی مدد سے پاکستان کے خلاف ہرسازش کو ناکام بنائیں گے اور کسی بھی جارحیت کا انشاء اللہ منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔‘

پریس کانفرنس کے آخر میں ایک صحافی نے سوال کیا کہ حالیہ دنوں میں کچھ بیانات ایسے آئے ہیں جس سے افواج پاکستان میں تفرقہ پیدا ہوسکتا ہے اور یہ جوانوں اور لیڈرشپ میں فاصلہ پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ اس پر آپ کیا کہیں گے۔

ترجمان نے جواب دیا کہ ’میں سوالات لینے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا کیوں کہ یہ ون پوائنٹ ایجنڈے پر مبنی پریس کانفرنس تھی، مگر آپ نے پوچھ لیا تو میں صرف یہ کہوں گا مسلح افواج ایک منظم ادارہ ہے، مسلح افواج کی قیادت اور جوانوں کو جدا نہیں کیا جاسکتا۔ قیادت اور جوانوں میں کسی قسم کا اختلاف نہیں ڈالا جاسکتا۔ یہ اکائی ہے اور اکائی رہے گی۔‘

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube