بلوچستان میں نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں،مریم نواز

SAMAA | - Posted: Oct 25, 2020 | Last Updated: 6 months ago
SAMAA |
Posted: Oct 25, 2020 | Last Updated: 6 months ago

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف نے خطاب کے آغاز میں بلوچستان کے عوام کا شکریہ ادا کرنے کے بعد کہا کہ سب سے پہلے یہ کہنا چاہتی ہوں کہ فرانس میں توہین آمیز خاکوں سے پاکستان سمیت دنیا بھر کے اربوں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔

اس کے بعد مریم نواز نے کہا کہ انہوں نے بلوچی لباس اس لیے پہنا ہے کہ انہیں پنجاب سے زیادہ بلوچستان کے عوام سے محبت ہے۔ جتنے پنجاب کے بچے انہیں عزیز ہے، اتنی ہی بلوچستان کے بچوں سے محبت ہے۔

مریم نواز نے بلوچستان کے طلبہ کے لانگ مارچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کی سوئی گیس پورے پاکستان کو دی جاتی ہے مگر بلوچستان کے 400 بچوں کو اسکالرشپ سے محروم کردیا جاتا ہے۔ بلوچستان کے گیس سے اربوں کھربوں روپے کمائے جاتے ہیں اور یہاں کے بچوں کو چند لاکھ کی اسکالرشپ بھی نہیں دی جاتی۔ ان بچوں نے 12 دن پیدل لانگ مارچ کیا۔ چادر بچھاکر سڑک پر سوجاتے تھے۔ ان کی آنکھیں لال ہوگئی تھیں۔

بلوچستان کے ایک دیرینہ اور سنگین مسئلے کی جانب گفتگو کا رخ موڑتے ہوئے مریم نواز شریف نے کہا کہ مجھے پتہ ہے یہاں سے نوجوان لاپتہ ہوجاتے ہیں۔ پھر ان کی مسخ شدہ لاشیں مل جاتی ہیں۔ حسیبہ قمبرانی کے تین جوان بھائی تین سال سے لاپتہ ہیں۔ میرے ساتھ جو کچھ ہوا، اس پر میری آنکھ میں آنسو نہ آئے مگر آج حسیبہ قمبرانی کو دیکھ کر آنسو آگئے۔ خدا کا خوف کرو، اپنے بچوں کا سوچو۔ اللہ تعالیٰ کے قہر سے بچو۔

بلوچستان میں سیاسی عمل کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کے لوگوں کو اپنے نمائندے چننے کا حق نہیں۔ اس لیے راتوں رات باپ یا ماں کے نام سے ایک پارٹی بنتی ہے، راتوں رات وہ ایک بچہ جنم دیتی ہے اور اگلے روز اسی بچے کو وزیراعلیٰ کی کرسی پر بٹھایا جاتا ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ آج مجھے ڈاکٹر شازیہ کا واقعہ یاد آگیا۔ اس کے مجرم کو بچانے کیلئے اکبر بگٹی کو شہید کیا گیا۔ آمر ( مشرف) نے مکے لہرا کر کہا تھا تمہیں وہاں سے ماریں گے کہ پتہ بھی نہیں چلے گا۔ پھر اس کو شہید کرکے اہل خانہ کو آخری دیدار کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ پھر جب پرویز مشرف کو عدالت نے سزا سنائی تو وہ عدالت ہی لپیٹ دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ آج کوئٹہ میں آکر قائداعظم کا اسٹاف کالج میں خطاب یاد آگیا۔ جس میں بابائے قوم نے فوج کو کہا تھا کہ پالیسیاں بنانا تمہارا کام نہیں۔ یہ عوام کے منتخب نمائندوں کو کرنے دو۔ کیا قائداعظم کی اس تقریر پر عمل ہوا۔ کیا حلف کو یاد رکھا گیا۔ کیا سیاست میں مداخلت بند ہوئی۔ کیا آئین کا احترام کیا گیا۔ قائداعظم کی روح بھی دیکھ رہی ہے۔ آج ہم سب وہی جھنڈا اٹھاکر نکلے ہیں۔ ووٹ کو عزت دو۔ اپنے حلف کی پاسداری کرو۔ جعلی حکومتیں مت بناؤ، ریاست کے اوپر ریاست مت بناؤ، عوام کے ووٹ پر ڈاکے مت ڈالو۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی اس حالت کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کے عوام کے ووٹ کو عزت نہیں دی گئی۔ یہاں حکومت کوئی اور بناتا اور رخصت کرتا ہے۔ یہاں حکومت عوام منتخب نہیں کرتی بلکہ کوئی اور کرتا ہے۔ یہاں کی حکومت عوام کیلئے نہیں بلکہ کسی اور کے مفاد کے لیے کام کرتی ہے۔ یہ جعلی حکومت عوام کو نہیں بلکہ کسی اور کو جوابدہ ہوتی ہے اور اس حکومت کے گریبان پر عوام کا نہیں بلکہ کسی اور کا ہاتھ ہوتا ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ بلوچستان کا ایک بیٹا قائداعظم کا ساتھی تھا، قاضی محمد عیسیٰ، جن کے ایک قابل فخر فرزند جسٹس فائز عیسیٰ ہیں۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں جسٹس فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس کو بدنیتی پر مبنی قرار دیا ہے۔ اس پر سلیکٹڈ اور سلیکٹرز کو استعفیٰ دینا چاہیے۔

انہوں نے جسٹس عیسیٰ کو انصاف دینے پر عدالت عظمیٰ کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عدالت جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو بھی انصاف دے۔ وہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے آئندہ چیف جسٹس بننے والے تھے۔

مریم نواز نے کہا کہ عاصم سلیم باجوہ یہاں ( بلوچستان) کا بادشاہ رہا ہے۔ وہ یہاں بلوچستان میں ووٹ کی عزت سے کھیلتا رہا ہے۔ اپنا پیشہ ورانہ کام چھوڑ کر سیاست کرتا اور ماں باپ کے نام سے پارٹی بناتا رہا ہے۔ ہم پوچھتے ہیں کہ ایک نوکری پیشہ ہونے کے باجود اربوں روپے کہاں سے آئے۔ وہ چپ، ہم پوچھتے ہیں کہ پیزا کیا ہے تو وہ چپ، یہ ننانوے کمپنیاں کہاں سے آئیں، وہ چپ، ہم پوچھتے ہیں کہ ایس ای سی پی کے ریکارڈ میں ٹمپرنگ کیوں کی، وہ چپ، ہم پوچھتے ہیں رسیدیں دو، وہ چپ، وہ چپ تو ہیں لیکن سلیکٹڈ اور سلیکٹرز میں بھی اتنی جرات نہیں کہ اس سے پوچھ سکیں۔

انہوں نے عاصم سلیم باجوہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب ایسا نہیں چلے گا۔ حساب تو آپ کو دینا پڑے گا۔ رسیدیں تو آپ کو دینا پڑیں گے۔ آپ نے معاون خصوصی کے عہدے سے استعفیٰ تو دیا، اب سی پیک سے بھی استعفیٰ دو۔ اربوں کھربوں کے منصوبے ایک داغدار آدمی کے حوالے نہیں کیے جاسکتے۔

مریم نواز نے تقریر کے آخر میں بلوچستان کے عوام کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ اب تقدیر بدلنے والی ہے۔ یہاں اب بغاوت اور غداری کے سرٹیفکیٹ نہیں بٹیں گے۔ ماؤں کے بچے اغوا نہیں ہوں گے۔ گن شپ ہیلی کاپٹر سے آپ پر بمباری نہیں ہوگی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube