Saturday, November 28, 2020  | 11 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > پاکستان

کراچی سیف سٹی منصوبہ: 10ہزار کیمرے لگانے کا فیصلہ

SAMAA | - Posted: Oct 24, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Oct 24, 2020 | Last Updated: 1 month ago

سندھ حکومت نے میگالو پولیس سٹی آف کراچی کے تحت سیکیورٹی، حفاظت اور معیار زندگی کو بہتر بنانے کیلئے سیف سٹی منصوبے پر عملدرآمد تیز کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے شہر میں 10 ہزار سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کی ہدایت کردی۔

وزیراعلیٰ ہاؤس میں امن وامان سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 10 ہزار سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ کیا، جس سے متعلق مختلف کمپوننٹس کی منظوری کیلئے آئندہ ہفتے اہم اجلاس بھی طلب کرلیا گیا۔

اجلاس میں وزیر آئی ٹی تیمور تالپور، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری ممتاز شاہ، کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل ہمایوں عزیز، ڈی جی رینجرز میجر جنرل عمر بخاری، آئی جی سندھ مشتاق مہر، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، اے سی ایس ہوم عثمان چاچڑ اور دیگر متعلقہ سینئر پولیس افسران نے شرکت کی۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ شہر میں امن وامان کی مجموعی صورتحال میں کافی حد تک بہتری آئی ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2014ء میں کراچی عالمی کرائم انڈیکس میں چھٹے نمبر پر تھا اور اب اس کی درجہ بندی 103 ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ عالمی کرائم انڈیکس 396 بین الاقوامی شہروں کی جرائم کی سطح کا سروے کرتا ہے، جس میں کراچی کو 2014ء میں چھٹے نمبر پر، 2015ء میں دسویں نمبر، 2016ء میں 26 ویں، 2017ء میں 47، 2018ء میں 50، 2019ء میں 71 اور رواں سال کی ابتداء میں 88 اور اب اکتوبر 2020 کے وسط میں 103 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔ آئی جی پولیس مشتاق مہر نے بتایا کہ کیپ ٹاؤن 19ویں نمبر، میکسیکو 29، کوالالمپور 38، ہیوسٹن 50، واشنگٹن 52 اور بھارتی دارالحکومت نئی دہلی 71ویں نمبر پر ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ اگر سیف سٹی پروجیکٹ جلد سے جلد عمل میں لایا جاتا تو اس شہر کو زیادہ سے زیادہ محفوظ بنایا جاسکتا تھا۔ انہوں نے آئی جی پولیس کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ ہفتے میسرز این آر ٹی سی کا اجلاس طلب کریں تاکہ ان کی تکنیکی اور مالی تجاویز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جاسکے۔

مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے شہر کو محفوظ اور معیار زندگی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے محکمہ پولیس کو ہدایت کی کہ جرائم پیشہ سرگرمیوں کے سلسلے میں ریڈ زون اور حساس علاقوں سمیت مختلف مقامات پر 10 ہزار کیمرے لگائیں۔

عید میلاد النبیﷺ کے جلوس

آئی جی پولیس نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ عید میلاد النبیﷺ جمعہ 30 اکتوبر 2020ء کو ہوگی، مرکزی جلوس میمن مسجد سے رات 12 بجے نکالا جائے گا، محکمہ پولیس ان کی حفاظت کیلئے 4706 اہلکاروں کی ایک نفری تعینات کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دوسرا جلوس دوپہر 12 بجے میری ویدر ٹاور سے شروع ہوگا اور آرام باغ مسجد پر اختتام پذیر ہوگا۔ تیسرا جلوس دوپہر ڈیڑھ بجے چھٹن شاہ مزار سے نکالا جائے گا اور پرانی نمائش پر اختتام پذیر ہوگا، اس طرح سے مختلف علاقوں میں کل 6 جلوس نکالے جائیں گے اور پہلے سے طے شدہ مقامات پر اختتام پذیر ہوں گے۔

آئی جی پولیس نے کہا کہ پورے سندھ میں 947 جلوس اور 902 محفل عید میلاد النبی ﷺ منعقد ہوں گی اور انہیں مناسب سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

چپ تعزیہ کا جلوس

آئی جی پولیس نے بتایا کہ چپ تعزیہ کا جلوس 8 ربیع الاول بروز پیر 26 اکتوبر 2020ء کو نکالا جائیگا، جو نشتر پارک کے مقام سے برآمد ہوکر کھارادر کی امام بارگاہ ایرانیہ حسینیہ پر اختتام پذیر ہوگا۔ جلوس کو 8000 پولیس اہلکاروں کی نفری کے ذریعہ سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ دوسرا جلوس رضویہ سوسائٹی، قصرِ مصائب سے شروع ہوگا اور شاہ نجف پر اختتام پذیر ہوگا، تقریبا 1200 پولیس اہلکار انہیں سیکیورٹی فراہم کریں گے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube