Saturday, November 28, 2020  | 11 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > پاکستان

آئی ایس آئی نےپولیس چیف کو اغوا نہیں کیا، گورنرسندھ

SAMAA | - Posted: Oct 22, 2020 | Last Updated: 1 month ago
Posted: Oct 22, 2020 | Last Updated: 1 month ago

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ آئی ایس آئی نے سندھ پولیس کے آئی جی مشتاق مہر کے اغوا کی تردید کی ہے۔

گورنر اسماعیل نے سماء ٹی وی کے اینکر ندیم ملک کو بتایا کہ واقعہ کے بعد میں نے آئی ایس آئی کے کمانڈنٹ سے بات کی ہے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ یہاں کوئی اغوا نہیں ہوا۔ جبکہ ڈی جی رینجرز سے بات نہیں ہوئی۔

گورنر سندھ کے بقول آئی ایس آئی کے کمانڈنٹ نے انہیں بتایا کہ ان کا پولیس کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ ہے۔

منگل کو سندھ پولیس کے درجنوں افسران نے آئی جی کے ساتھ مبینہ بدتمیزی اور تضحیک کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے چھٹی کی درخواستیں دی تھیں۔ خود آئی جی سندھ مشتاق مہر نے بھی ایک ماہ کی چھٹی پر جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے آرمی چیف اور آئی ایس آئی ڈی جی سے تحقیقات کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ ان کا ادارہ سندھ میں کیا کررہا ہے۔

آرمی چیف کے نوٹس لینے اور تحقیقات کے حکم کے بعد سندھ پولیس کے افسران نے 10 دن تک اپنی درخواستیں واپس لی ہیں۔ حتمی فیصلہ تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد کیا جائے گا۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے انہیں بتایا تھا کہ صبح 4 بجے آئی جی کے گھر کا گھیراؤ کرکے انہیں سیکٹر کمانڈر کے دفتر لے جایا گیا اور ان سے زبردستی کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر کی گرفتاری کے احکامات پر دستخط لیا گیا۔

گورنر سندھ نے ندیم ملک کو بتایا کہ میری معلومات کے مطابق آئی جی کو اغوا نہیں کیا گیا تھا۔ سیکٹر کمانڈر کے پاس ان کا آنا جانا معمول کی بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں اس بات کی تصدیق نہیں کرسکتا کہ دروازہ ٹوٹا ہے یا نہیں۔

گورنر نے کہا کہ انہوں نے خود اتوار کی شام سندھ کے آئی جی مشتاق مہر کو فون کیا اور انہیں قائد اعظم کے مزار پر نعرے بازی کرنے کے لئے ایف آئی آر درج کرنے کو کہا تھا۔ مجھے لگا کہ وہ ایف آئی آر درج کرنے سے گریزاں ہیں۔

WhatsApp FaceBook
ISI

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube