Saturday, November 28, 2020  | 11 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > پریس ریلیز

نوازشریف کی طلبی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہربھی اشتہار چسپاں

SAMAA | - Posted: Oct 21, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Oct 21, 2020 | Last Updated: 1 month ago

العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں نواز شریف کی طلبی سے متعلق اخبارات میں شائع ہونے والا اشتہار اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر بھی چسپاں کردیا گیا ہے۔

بدھ کورجسٹراراسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایت پر نواز شریف کی طلبی کا اشتہار عدالت کے باہر چسپاں کیا گیا ہے۔ اٹارنی جنرل آفس کے اہلکاروں کی جانب سے اشتہار کی کاپیاں پلاسٹک کوٹنگ کرکے پارکنگ گیٹ ،سائلین کے انٹری گیٹ اور وی آئی پی گیٹ کے باہرآویزاں کی گئی ہیں۔2 روز پہلے نواز شریف کی طلبی کا اشتہارانگریزی اور اردو کے دو اخبارات میں شائع ہوا تھا۔

اس کےعلاوہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایون فیلڈ اورالعزیزیہ ریفرنسزمیں سابق وزیراعظم نواز شریف کے اشتہارات برطانیہ ارسال کردئیےہیں۔رجسٹراراسلام آباد ہائیکورٹ نےاشتہار پاکستانی ہائی کمیشن لندن کو بھجوا دیئے ہیں۔ رجسٹرار نے سیکرٹری خارجہ کے ذریعے پاکستانی ہائی کمیشن کو ہدایات جاری کردی ہیں۔ برطانیہ میں عوامی مقامات پر نواز شریف کے اشتہار چسپاں کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اس کےعلاوہ نوازشریف کےبرطانیہ میں رہائشی علاقے میں اشتہار چسپاں کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ اشتہارات پر تمام کارروائی کرکےرپورٹ 24 نومبر تک پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

واضح رہے کہ عدالتی حکم پر نواز شريف کی طلبی کا اشتہارپیر 19 اکتوبر کو اخبارات میں شائع کردیا گیا ہے۔ عدالت کی جانب سے نواز شريف کے اثاثے ضبط کرنے کيلئے 29 اکتوبر2020 تک مہلت دی گئی ہے۔ نواز شریف کے اشتہار العزیزیہ اسٹیل ملز اور ایون فیلڈ ریفرنس میں طلبی کیلئے شائع کیے گئے ہیں۔ دونوں اشتہارات عدالتی احکامات کی روشنی میں روزنامہ جنگ اور ڈیلی ڈان میں شائع کرائے گئے۔

شائع اشتہار کے مطابق ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف 6 جولائی 2018 کو 10 سال قید اور 8 ملین پاؤنڈز جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ اشتہار میں یہ بھی درج ہے کہ نواز شریف کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دیا گیا۔ ایون فیلڈ ریفرنس میں 19 ستمبر 2018 کو نواز شریف کی سزا معطل ہوئی تو وہ جیل سے ضمانت پر رہا ہوئے۔

دیگرتفصیل میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں اپیل زیر سماعت ہے۔ سماعت کے دوران نواز شریف عدالت پیش ہونے کے پابند تھے۔ نواز شریف کی حاضری یقینی بنانے کیلئے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے، جس کی تعمیل نہ ہوسکی۔

شائع متن میں یہ بھی درج ہے کہ العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف کو 7 سال قید اور 1.5 ارب روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں 8 ہفتوں کی ضمانت منظور کی گئی۔ سزا معطلی اور ضمانت کے بعد اپیلوں پر سماعت کی پیروی کیلئے نواز شریف پیش نہیں ہوئے۔ نوازشریف کے وارنٹس جاری کئے گئے جن کی تعمیل نہیں ہوسکی۔ عدالت رپورٹس سے مطمئن ہے کہ نوازشریف مفرور ہیں، جان بوجھ کر عدالتی کارروائی سے خود کو چھپا رہے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube