Thursday, December 3, 2020  | 16 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > پاکستان

وزیراعلیٰ سندھ کی پولیس افسران کوکام جاری رکھنے کی ہدایت

SAMAA | - Posted: Oct 21, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Oct 21, 2020 | Last Updated: 1 month ago
CM with police

فوٹو: سی ایم ہاؤس سندھ ٹویٹر

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے تمام افسران کو کام جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے يقين دلايا کہ سندھ حکومت سميت تمام ادارے پوليس کے ساتھ ہیں۔

بدھ 21 اکتوبر کو وزيراعلیٰ سندھ کی پوليس کے سينئر افسران سے ملاقات ہوئی جس میں آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جیز اور ڈی آجی جیز شریک ہوئے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے پولیس کو یقین دہانی کروائی کہ وزراء کميٹی اور آرمی چيف کی ہدايت پر جلد حقائق سامنے لائے جائيں گے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ پوليس نے امن وامان کے لیے جانوں کا نذرانہ پيش کيا اور امن امان کی بحالی کے لیے پوليس کی بڑی قربانیاں ہیں۔ پولیس کی خدمات، قربانیوں، پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا متعرف ہوں جس نے بڑے بڑے دہشت گردی کے واقعات ميں اہم گرفتارياں کیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت ہر مشکل گھڑی میں اپنی پولیس کے ساتھ ہے اور پولیس کو کسی صورت ڈی مورلائیز نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس بھرپور جذبہ کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ خدمات جاری رکھے کیونکہ سندھ حکومت پولیس کے باقی معاملات کو خود دیکھے گی۔ سندھ حکومت نے پولیس کو ہمیشہ آزادانہ کام کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہيں۔

پولیس نے وزیراعلیٰ سندھ کا ہر مرحلے پر پولیس کی رہنمائی کرنے اور ساتھ دینے پر شکریہ ادا کیا۔ ترجمان سندھ پولیس کا کہنا تھا کہ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام کی جان ومال کا تحفظ کرتے رہیں گے۔

واضح رہے کہ آرمی چیف کی یقین دہانی کے بعد آئی جی سندھ مشتاق مہر نے چھٹيوں پر جانے کا فيصلہ موخر کرتے ہوئے پولیس افسران سے کہا تھا کہ وسيع تر قومی مفاد ميں چھٹيوں کا فيصلہ 10 دن کيلئے واپس لے ليں۔ معاملے سے متعلق آج وزیراعلیٰ سندھ نے اجلاس طلب کیا تھا۔

آئی جی کے ساتھ کیا ہوا

کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے بعد مریم نواز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئی جی سندھ کو رات کی پچھلی پہر گھر سے اٹھاکر سیکٹر کمانڈر کے آفس میں لے جایا گیا اور ان سے زبردستی گرفتاری کے آرڈر پر دستخط کروائے گئے۔ اس میں کون لوگ شامل تھے، وہ سب نے دیکھے ہیں۔ اس کے گواہ موجود ہیں۔

مسلم لیگ نواز کے رہنما محمد زبیر نے کہا تھا کہ آئی جی سندھ مشتاق مہر کو ان کے گھر سے اغوا کرکے سیکٹر کمانڈر کے آفس لے جایا گیا جہاں ایڈیشنل آئی جی کو بھی لایا گیا تھا۔

مریم نواز نے منگل کی شام پریس کانفرنس میں کہا کہ آئی جی کے گھر کا گھیراؤ کیا گیا اور پھر ان کو گھر سے نکال کر نامعلوم مقام پر لے جایا گیا۔ آدھی رات کو نعرے لگانے پر کون سی میٹنگ ہوتی ہے۔ یہ سندھ کے عوام کی توہین ہے۔ اس کو برداشت نہیں کریں گے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube